بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کانواز شریف کو بچانے کا پلان سامنے آگیا

datetime 3  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت نے نواز شریف کے خلاف کرپشن ریفرنس سننے والے احتساب عدالتوں میں جج تعینات ہی نہیں کئے ۔ 6 احتساب عدالتوں میں 4 احتساب عدالتیں ججوں کے بغیر ہوں گی جب شریف خاندان کے خلاف ریفرنس عدالتوں میں پیش ہوں گے ۔ 2 احتساب عدالتیں گزشتہ ایک سال سے جج نہ ہونے کے باعث بند ہو چکی ہیں ۔ نواز شریف نے اپنے دور میں احتساب عدالتوں میں جج تعینات ہی نہیں کئے ۔ چیئرمین نیب چودھری قمر الزمان بھی نواز شریف کے خلاف

ریفرنس دائر ہونے کے 3 ہفتوں کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔ نواز شریف کے ریفرنسوں کی سماعت کے دوران نیب کا ادارہ اور احتساب عدالتیں سربراہوں کے بغیر ہوں گی اور عملاً یہ ادارہ بند ہو جائے گا ۔ حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت احتساب عدالتوں میں جج تعینات ہی نہیں کئے ہیں ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آؒ باد کی 2 احتساب عدالتیں گزشتہ کئی سالوں سے جج کے بغیر چل رہی ہیں ۔ نواز شریف نے ان عدالتوں میں جج ہی تعینات نہیں کئے ہیں ۔اسلام آ باد راولپنڈی کی 6 احتساب عدالتوں میں صرف 4 احتساب عدالتیں کام کر رہی ہیں ۔ 4 احتساب عدالتوں کے ججوں میں سے 2 جج نواز شریف ‘ اسحاق ڈار ‘ مریم نواز ‘ حسن نواز ‘ حسین نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف اربوں روپے کرپشن کے ریفرنس دائر ہونے کے فوری بعد اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔ راولپنڈی احتساب عدالت نمبر ایک جج خالد محمود رانجھا اس سال 4 اکتوبر کو ریٹائر ہوں گے جبکہ احتساب عدالت نمبر 2 کے جج راجہ اخلاق حسین یکم اکتوبر کو ریٹائر ہو جائیں گے ۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے ٹھیک تین ماہ بعد عہدہ سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 کے جج نثار بیگ بھی 16 اکتوبر 2017 کو اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔ احتساب عدالتوں کے ججوں کی تعیناتیوں کی صدر مملکت منظوری دیتے ہیں جبکہ سمری وزارت قانون وفاقی حکومت کرتی ہے جس کی منظوری صدر مملکت سے لی جاتی ہے ۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کرپشن ریفرنس نیب کو 15 ستمبر سے قبل دائر کرنا ضروری ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…