اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بم پروف عمارت میں اہم ترین نظام کا قیام،چوہدری نثار نے افتتاح کردیا

datetime 6  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی منصوبے کا افتتاح کردیاہے ۔تفصیلات کے مطابق سیف سٹی منصوبے کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر ایک ہزار 950 کیمرے نصب کیے گئے ہیں ٗ یہ منصوبہ امن وامان کی صورتحال اور وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ منصوبے کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سیکٹر ایچ 11 میں ایک بم پروف عمارت میں قائم کیا گیا ہے جہاں سے اہم عمارتوں، داخلی اور خارجی مقامات، سڑکوں، کاروباری مراکز اور شہر کے رہائشی علاقوں کی نگرانی کی جائیگی۔منصوبے کا مقصدوفاقی دارالحکومت میں رہائش پذیر لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو بہتر بنانا اور شہر بھر کی نگرانی کو موثر انداز میں یقینی بنانا ہے تاکہ جہاں ایک طرف جرائم کی شرح کو مزید کم کیا جا سکے وہاں دیگر ادارے بھی اس سہولت سے مستفید ہوسکیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہربھرکے تمام داخلی و خارجی راستوں، کمرشل ایریاز، مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں کے ایک بڑے حصے میں سیکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ چوبیس گھنٹے نگرانی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے ۔ دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو مزید منظم بنانے کے لئے اسلام آباد ٹریفک پولیس اس پراجیکٹ سے استفادہ حاصل کرے گی۔ واضح رہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کا منصوبہ گزشتہ دور حکومت میں شروع کیا گیا لیکن مختلف وجوہات کی بنیاد منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا اور وزیر داخلہ کی ذاتی دلچسپی و کوششوں سے نہ صرف منصوبے کومکمل کیا گیا ہے بلکہ اس منصوبے کو اسی قیمت میں پایہ تکمیل تک پہنچایاگیا ہے جس کا تخمینہ منصوبے کے آغاز پر سابقہ دورِ حکومت میں لگایا گیا تھا۔ وزیرِداخلہ اس منصوبے کی تکمیل کے سلسلے میں متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہے اور اس ضمن میں وزارتِ داخلہ میں ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے منعقد کئے گئے جن میں نہ صرف پراجیکٹ کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جا تا رہا بلکہ منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی وزیرِداخلہ کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ سیف سٹی پراجیکٹ کی عمارت سیکورٹی کے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھ کر تعمیرکی گئی ہے ۔اس عمارت میں مقیم پولیس، انتظامیہ، نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام باہمی کوآرڈینیشن اور مشترکہ کاوشوں سے سیکورٹی اور امن و امان کی بہتری کیلئے ملکر کام کریں گے۔ کسی بھی واقعے یا صورتحال کے پیش نظر کنٹرول روم سے تمام اداروں خصوصا پولیس کی ریپڈ ریسپانس فورس کو فوری طور پر اطلاع دی جائیگی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اور دیگر ادارے بغیر کسی تاخیراپنا کرادار ادا کر سکیں۔ اسلام آباد میں ’سیف سٹی‘ منصوبے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ ہے، جس پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ ایک بہت انوکھا کام ہے، یہاں کام کرنے والوں کے لیے مراعات میں اضافہ کریں گے، جبکہ اگر تعینات اہلکار صحیح طریقے سے ڈیوٹی نہیں دیں گے تو اس منصوبیکا کوئی فائدہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…