اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چوہدری نثا ر سب پر بازی لے گئے، انٹرنیشنل میڈیا میں چرچے ،اخبارات کیا کیا لکھتے رہے

datetime 26  مئی‬‮  2016 |
APP71-10 ISLAMABAD: September 10 - Federal Minister for Interior and Narcotics Control Chaudhry Nisar Ali Khan addressing a press conference at Punjab House. APP photo by Irfan Mahmood

اسلام آباد(این این آئی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی بلوچستان میں امریکی ڈرون حملہ کے معاملہ پر پریس کانفرنس کو عالمی ذرائع ابلاغ نے نمایاں کوریج دی ہے اور وزیر داخلہ کے مؤقف کو اجاگر کیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے وزیر داخلہ کی طرف سے ڈرون حملہ کو پاکستان کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دینے کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ نے ڈرون حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ وزیر داخلہ کے مطابق پاکستان کو حملہ کے 7 گھنٹے بعد سرکاری طور پر حملہ کی اطلاع دی گئی اور بتایا گیا کہ ملا منصور کو پاکستان میں نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق وزیر داخلہ نے اس امر کو بھی مسترد کر دیا کہ ملا منصور افغانستان میں امن کیلئے خطرہ تھا بلکہ انہوں نے آگاہ کیا کہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین پہلے بالمشافہ مذاکرات میں شریک تھا جس کا انعقاد جولائی 2015ء میں حکومت پاکستان نے کیا تھا۔ اخبار کے مطابق وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملا عمر پر حملہ کی خبر لیک کرکے بھی امن عمل کو سبوتاژ کر دیا گیا تھا۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ نے امریکی حملہ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اسے بلاجواز، ناقابل قبول اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ معروف برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ نے لکھا ہے کہ وزیر داخلہ نے امریکی حملہ کی کھل کر مذمت کی ہے اور اسے ملک کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اخبار نے وزیر داخلہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ملا منصور کی ہلاکت سے امن کا عمل متاثر ہو گا اور امریکہ نے حملہ کا جو جواز دیا ہے اگر اس کو مان لیا جائے اور ہر ملک یہی مؤقف اختیار کر لے تو دنیا میں جنگل کا قانون ہو گا۔ اخبار کے مطابق وزیر داخلہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اس حملہ سے ایک مشکل صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ وزیر داخلہ نے اس معاملہ پر بڑا دو ٹوک، واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اخبار کے مطابق وزیر داخلہ نے ملا منصور کی پاکستانی شناختی دستاویزات کے حوالہ سے تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…