اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پانامہ لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کے پتے بکھرنے لگے

datetime 20  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی )پانامہ لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کے پتے بکھرنے لگے ،12رکنی ٹی اوآرز پارلیمانی کمیٹی بن گئی، ایم کیو ایم ادھر ہے نہ ادھر ، اے این پی نے بھی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ، ایم کیو ایم کو کمیٹی میں شامل کرنے سے متعلق فیصلے کے لئے حزب اختلاف (آج) جمعہ کو سر جوڑ کر بیٹھے گی ۔تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس کا ہنگامہ اور تحقیقات اپوزیشن کے اختلافات کی نظر ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔ حکومت مخالف تحریک، قرض معافی اور کک بیکس کے معاملات پر متحدہ اپوزیشن میں دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی نے حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ سربراہ اے این پی اسفند یار ولی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو صرف پانامہ لیکس تک محدود نہ کیا جائے ۔صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا مسئلے کا حل نہیں ۔ وزیراعظم مجرم نہیں ملزم ہیں ۔ اے این پی وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ نہیں کرے گی۔ انکوائری کمیشن پانامہ لیکس کے ساتھ قرض معافی اور خیبر لیکس کی بھی تحقیقات کرے۔ دوسرے طرف جمعرات کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں 12رکنی ٹی اوآرز کمیٹی کے قیام کی تحریک منطور کر لی گئی ۔ ایم کیو ایم کو اپوزیشن میں شامل کئے جانے پر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی خوب برہم دکھائی دیئے۔ اجلاس سے خطاب پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم اپوزیشن ہے تو اسحاق ڈار سے کیوں رابطے کر رہی ہے حزب اختلاف سے رابطے کرے ۔اپوزیشن کے سخت رویے پر متحدہ قومی موومنٹ نہ ادھر رہی نہ ادھر جس پر متحدہ کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین نے اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ اگر ایوان چاہتا ہے ایم کیو ایم اسمبلی سے بھی باہر چلی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں ایسا بھی کر لیتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ ایم کیو ایم اپوزیشن کی نمائندگی پر حکومت کو ووٹ نہ دے دے ۔متحدہ اپوزیشن کے اختلاف کے باعث خدشہ ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ بیچ میں ہی لٹک جائے گا ۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم کی درخواست پر ٹی اوآرز کمیٹی میں شمولیت پر اپوزیشن جماعتیں آج جمعہ کو اجلاس میں غور کریں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…