اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کاوزیراعظم بننے کا خواب ،حمزہ شہباز نے طنزیہ پیشکش کرڈالی

datetime 16  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں، عمران خان شیروانی پہن لیں ہم انہیں وزیراعظم کہہ لیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب ٗآپ کے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کی آف شور کمپنیاں ہیں ٗجہانگیر ترین نے قرضے معاف کرائے ٗعمران خان کی دوسری طرف علیم خان ہیں جو قبضہ گروپ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ الزامات لگانے والوں کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں،عمران خان کل کچھ بیان دیتے ہیں آج کچھ بیان دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب! ہوش کے ناخن لیں ٗآپ جہازوں میں پھرتے ہیں ٗآپ کی انکم کیاہے ؟جس کا دامن صاف ہوتا ہے وہی چیف جسٹس سے کہتا ہے کہ کمیشن بنائیں۔حمزہ شہباز نے کہاکہ جب کوئی سازش ہوتی ہے تو آپ کے دھر نے ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ دھرنوں میں عمران خان کے موقف کا دھڑن تختہ ہوا، اٹک جیل کاٹ کر محب وطن بنا جاسکتا ہے، جب عدلیہ بحال ہوئی تب مجھے وہ 11کروڑ واپس ملے،عمران خان صاحب!قوم کا وقت ضائع نہ کریں،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…