اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

فاٹا کے باڑہ بازار میں 7سال بعد تجارتی سرگرمیاں بحال

datetime 6  فروری‬‮  2016 |

لنڈی کوتل(نیوز ڈیسک)قبائلی علاقے فاٹا کے باڑہ بازار میں 7سال بعد تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔باڑہ بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں ہزاروں تاجروں، قبائلی سرداروں اور قبائلیوں نے شرکت کی۔اس موقع پر سکیورٹی فورسز اور پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے باڑہ بازار کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ، رکن قومی اسمبلی ناصر خان اور متعدد سکیورٹی حکام نے کچھ بند دکانوں کے تالے کھول کر بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا۔اس موقع پر شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ بازار صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے گا۔انھوں نے کہا کہ باڑہ بازار کے پانچوں داخلی راستوں پر کلوز سرکٹ ٹیلی ویڑن کیمرے نصب کیے گئے ہیں جس کا مقصد مقامی تاجروں کی سرگرمیوں، ان کی اور یہاں آنے والے خریداروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔پولیٹیکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ ایک کنٹرول روم باڑہ بازار میں بھی قائم کیا گیا ہے جو تاجروں کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی سروسز فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔رکن قومی اسمبلی نثار خان نے باڑہ بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرا±مید ہیں کہ یہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے دہشت گردی سے متاثرہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔بعد ازاں پولیٹیکل انتظامیہ نے باڑہ کے تاجروں کو کسی بھی قسم کے ہتھیار، گولہ بارود اور منشیات کی تجارت سے خبردار کیا۔اس کے علاوہ تمام تاجروں کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک حلف نامہ جمع کروائیں گے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کے لیے رقم جمع نہیں کریں گے۔باڑہ تاجر اتحاد کے ترجمان مقابلی خان کا کہنا تھا کہ اس وقت باڑہ بازار کے صرف 30 فیصد تاجر ہی اس قابل ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کا دوبارہ آغاز کرسکیں۔انھوں نے بتایا کہ ‘سات سال مسلسل تجارتی سرگرمیاں بند رہنے کی وجہ سے لاکھوں روپے کے نقصان کے باعث بیشتر تاجر دوبارہ تجارت کا آغاز نہیں کرسکتے۔تاجر رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کے لیے آسان شرائط پر بینک قرضوں کی فراہمی کا اعلان کرے اور بازار کے متاثرہ حصے کی تعمیر کے لیے مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا جائے۔خیال رہے کہ باڑہ بازار کو ستمبر 2009 میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کے باعث بند کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…