جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

فاٹا کے باڑہ بازار میں 7سال بعد تجارتی سرگرمیاں بحال

datetime 6  فروری‬‮  2016 |

لنڈی کوتل(نیوز ڈیسک)قبائلی علاقے فاٹا کے باڑہ بازار میں 7سال بعد تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔باڑہ بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں ہزاروں تاجروں، قبائلی سرداروں اور قبائلیوں نے شرکت کی۔اس موقع پر سکیورٹی فورسز اور پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے باڑہ بازار کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ، رکن قومی اسمبلی ناصر خان اور متعدد سکیورٹی حکام نے کچھ بند دکانوں کے تالے کھول کر بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا۔اس موقع پر شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ بازار صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے گا۔انھوں نے کہا کہ باڑہ بازار کے پانچوں داخلی راستوں پر کلوز سرکٹ ٹیلی ویڑن کیمرے نصب کیے گئے ہیں جس کا مقصد مقامی تاجروں کی سرگرمیوں، ان کی اور یہاں آنے والے خریداروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔پولیٹیکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ ایک کنٹرول روم باڑہ بازار میں بھی قائم کیا گیا ہے جو تاجروں کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی سروسز فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔رکن قومی اسمبلی نثار خان نے باڑہ بازار میں تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرا±مید ہیں کہ یہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے دہشت گردی سے متاثرہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔بعد ازاں پولیٹیکل انتظامیہ نے باڑہ کے تاجروں کو کسی بھی قسم کے ہتھیار، گولہ بارود اور منشیات کی تجارت سے خبردار کیا۔اس کے علاوہ تمام تاجروں کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک حلف نامہ جمع کروائیں گے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کے لیے رقم جمع نہیں کریں گے۔باڑہ تاجر اتحاد کے ترجمان مقابلی خان کا کہنا تھا کہ اس وقت باڑہ بازار کے صرف 30 فیصد تاجر ہی اس قابل ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کا دوبارہ آغاز کرسکیں۔انھوں نے بتایا کہ ‘سات سال مسلسل تجارتی سرگرمیاں بند رہنے کی وجہ سے لاکھوں روپے کے نقصان کے باعث بیشتر تاجر دوبارہ تجارت کا آغاز نہیں کرسکتے۔تاجر رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کے لیے آسان شرائط پر بینک قرضوں کی فراہمی کا اعلان کرے اور بازار کے متاثرہ حصے کی تعمیر کے لیے مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا جائے۔خیال رہے کہ باڑہ بازار کو ستمبر 2009 میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کے باعث بند کردیا گیا تھا۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…