منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پاکستانی اورسعودی حکام میں مذاکرات کاپہلادورختم

datetime 18  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا ایران سعودی عرب کشیدگی ختم کرانے کیلئے اس وقت سعودی عرب میں ہیں اوراس دورے کے دوران وزیراعظم نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف کوسعودی عرب کی طرف سے عشائیہ بھی دیاگیاجبکہ اس سے قبل پاکستانی وفد کاسعودی رہنماوں سے مذاکرات کا ایک اور دور ہوا۔دوسرے دور کے مذاکرات میں پاکستانی وفد میں طارق فاطمی، سعودی عرب میں پاکستانی سفیرمنظور الحق اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بھی موجود تھے۔ سعودی رہنماوں میں فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز، وزیر خارجہ عادل الجبیر اور شاہی خاندان کے دوسرے افراد شریک ہو ئے۔ سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے دور کے بعد طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ یہ دور بھی کامیاب رہا۔ طارق فاطمی نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب کی طرح ایران بھی پاکستانی کوششوں کی حمایت کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ دو اسلامی ممالک کے درمیان تنازع خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔جبکہ انتہائی معتبرذرائع کے بتایاہے کہ پاکستان نے سعودی رہنماﺅں پرزوردیاکہ اگرسعودی عرب اورایران نے کشیدگی ختم نہ کی توپھرخطے میں امن کوخطرہ ہوگاجس کانقصان مسلمانوں کوہوگااس لئے دونوں ممالک باہمی مذاکرات کے ذریعے معاملے کوختم کریں اورپاکستان اس بارے میں اپناکرداراداکرے گاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات معمول پرآجائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…