بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کالعدم تنظیموں کے خلاف پنجاب میں بھی رینجرز کی تعیناتی پر غور

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) صوبہ پنجاب میں بھی سندھ کی طرز پر کالعدم تنظیموں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف آپریشن کے لیے رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے زیرِغور ہے۔ پنجاب میں رینجرز آپریشن کی تجویز ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے میں رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ سب سے پہلے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا اور اب یہ معاملہ وزیر اعظم آفس پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ پنجاب پولیس کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے تربیت اور وسائل کی کمی ہے، جس کے باعث یہ کام اب رینجرز کے حوالے کیا جانا چاہیے۔تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر وسائل فراہم کیے جائیں تو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی اور ایلیٹ فورسز کارگر ثابت ہوسکتی ہیں۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی ضروری ہے۔گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور کور کمانڈر لاہور نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں فوجی قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ اگر پنجاب حکومت چاہے تو صوبے میں آپریشن کے لیے رینجرز کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے قریبی ساتھی نے بتایا کہ پنجاب کے جن اضلاع میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ان میں رحیم یار خان، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔یہ اضلاع دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔حکمراں جماعت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پہلے ایلیٹ فورس کے ذریعے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کرے گی، کیونکہ اگر رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے تو اس سے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے غلط تاثر جائے گا۔ذرائع نے کہا کہ اگر رینجرز کو پنجاب میں طلب کیا گیا تو اسے کراچی والے اختیارات ہی حاصل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…