جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، پٹھان کوٹ حملے کی مذمت

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ہر قسم کی دہشت گردی کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دہشت گردوں اور دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی پر مکمل اتفاق رائے ہے، خطے سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھارت سے بھی مکمل تعاون کیا جائیگا اور پٹھانکوٹ حملے کے حوالے سے بھارتی حکومت سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور جامع مذاکراتی عمل پر قائم رہیں ۔ اعلی سطحی اجلاس جمعہ کو یہاں وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمد رضوان اختر، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور ڈی جی ملٹری آپریشنز شریک ہوئے ، اجلاس میں پاکستان کی طرف سے ہر قسم اور ہر شکل کی دہشت گردی کی سخت مذمت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پاکستان کی پوری قیادت اور تمام ادارے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کررہے ہیں، اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام نے تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کسی بھی امتیاز کیخلاف کارروائی کیلئے سیاسی اتفاق رائے قائم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی دہشت گرد کو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، اجلاس میں پٹھانکوٹ حملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی طرف سے اس واقعہ کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے بھارت کیساتھ تعاون کیا جائیگا اس ضمن میں پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر بھارتی حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق پیشرفت پر غور کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے بھارت کی حکومت سے قریبی رابطہ رکھا جائیگا۔ اجلاس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ اعلی سطحی رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے خیر سگالی کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور مذاکراتی عمل پر قائم رہیں گے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…