پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، پٹھان کوٹ حملے کی مذمت

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ہر قسم کی دہشت گردی کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دہشت گردوں اور دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی پر مکمل اتفاق رائے ہے، خطے سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھارت سے بھی مکمل تعاون کیا جائیگا اور پٹھانکوٹ حملے کے حوالے سے بھارتی حکومت سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور جامع مذاکراتی عمل پر قائم رہیں ۔ اعلی سطحی اجلاس جمعہ کو یہاں وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمد رضوان اختر، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور ڈی جی ملٹری آپریشنز شریک ہوئے ، اجلاس میں پاکستان کی طرف سے ہر قسم اور ہر شکل کی دہشت گردی کی سخت مذمت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پاکستان کی پوری قیادت اور تمام ادارے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کررہے ہیں، اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام نے تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کسی بھی امتیاز کیخلاف کارروائی کیلئے سیاسی اتفاق رائے قائم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی دہشت گرد کو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، اجلاس میں پٹھانکوٹ حملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی طرف سے اس واقعہ کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے بھارت کیساتھ تعاون کیا جائیگا اس ضمن میں پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر بھارتی حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق پیشرفت پر غور کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے بھارت کی حکومت سے قریبی رابطہ رکھا جائیگا۔ اجلاس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ اعلی سطحی رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے خیر سگالی کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور مذاکراتی عمل پر قائم رہیں گے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…