اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ داعش کے حوالے سے سیکیورٹی ادارے مستعد ہیں اور پاکستان میں داعش کا سایہ تک برداشت نہیں کریں گے ٗ پاک بھارت سیکرٹریز ملکر جامع مذاکرات کا شیڈول طے کرینگے ٗ پاکستان ٗافغانستان ٗ چین اور امریکہ کے درمیان چار افریقی رابطہ اجلاس پندرہ جنوری سے 31جنوری کے درمیان اسلام آباد میں ہوگا ٗافغان مذاکراتی عمل کا طریقہ کار اور شیڈول طے کیا جائیگا۔جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان میں داعش نے اپنے قدم نہیں جمائے ٗچند افراد انفرادی طور پر داعش کا نام استعمال کر رہے ہیں ٗپاکستان میں داعش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد پکڑے گئے جن سے تفتیش جاری ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں داعش کوئی وجود نہیں ہے، نہ ہی داعش کو پاکستان میں برداشت کای جائیگا۔ترجمان نے پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کی تاریخ طے کی جا رہی ہے ٗخارجہ سیکریٹریز مل کر دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا شیڈول طے کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے مابین سنجیدہ معاملات موجود ہیں جن کو جامع مذاکرات میں ان معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا۔قاضی خلیل اللہ نے بتایا کہ پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا کے درمیان 4 فریقی رابطہ اجلاس 15 سے 31 جنوری کے درمیان اسلام آباد میں ہوگا، جس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا طریقہ کار اور شیڈول طے کیا جائے گا۔پاکستانی سفارت کار کو بنگلہ دیش میں ہراساں کیے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فارینہ ارشد کو بنگلہ دیش میں ہراساں پر واپس پاکستان بلایا گیا اور اس معاملے پر بنگلہ دیشی سفیر کو دو بار طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سال 2015 پاکستان کی خارجہ سطح پر کامیابیوں کا سال رہا، پاکستان نے اس سال دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں۔ پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی کوریڈور کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا اس منصوبے میں چین 46 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے روس، امریکا، چین، وسطی ایشیائی ممالک بیلاروس سمیت کئی ممالک کے کامیاب دورے کئے جبکہ کئی ملکوں کے سربراہوں نے پاکستان کے دورے کئے۔ اس سال پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات بحال ہوئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا خیر سگالی دورہ کیا۔ اس سال پاکستان میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس منعقد ہوئی جس میں چین، روس ، بھارت، ایران، ترکی، بیلاروس ، وسطی ایشیائی ممالک سمیت کئی ملکوں کے رہنماؤں اور وزراء خارجہ نے شرکت کی۔ اس سال پاکستان کی کوششوں سے افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین امن مذاکرات بحال ہوئے۔ اس سال وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کیا۔ کئی سالوں کے تعطل کے بعد 2015ء میں پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کارکن بنا، چین کی طرف سے پاکستان میں 46 ارب ڈالرزکی سرمایہ کاری بے مثال ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیوں پر ماضی میں بھی الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 34 اسلامی ممالک پر مشتمل کولیشن میں کردارکا تعین فی الحال نہیں کیا ہے۔ اس کا فیصلہ ایک ہفتہ میں کیا جائے گا۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون کی غرض سے اس کولیشن میں شمولیت اختیار کی ہے
داعش نے ابھی پاکستان میں قدم نہیں جمائے‘ دفتر خارجہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کیا آپ کا نام 13000 روپے حاصل کرنے والی فہرست میں ہے؟ اہلیت چیک کریں
-
چوہے کھانا بند کریں
-
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ زندہ بچ جانے والی خاتون نے دل دہلا دینے والی کہانی سنادی
-
عماد وسیم نے بھارت کیخلاف شکست کی ذمہ داری قبول کرلی،ہوشر با انکشافات
-
سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
نادرا: تاریخ پیدائش کی تبدیلی یا تصحیح کروانے والوں کیلیے اہم خبر
-
’’ مجھے بڑی عمرکی عورتیں پسند ہیں، دوستوں کے گھر جاتا تو کہتاتھا کہ بہنیں سائیڈ پر کر دو امی کو خطرہ...
-
لاہور میں کینال روڈ بند کرنے والے نوجوان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ، ویڈیو سامنے آگئی
-
مریم نواز کا کسانوں کے لیے بڑا اعلان
-
میٹرک میں فیل ہونے والے طلبا کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے مہنگی ڈیل کا امکان بڑھنے لگا
-
بھارت جاکر شادی کرنے والی سیما حیدر کے یہاں 11 ماہ میں دوسرے بچے کی پیدائش
-
پنجاب کے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، سرکاری نمبر پلیٹ کی شرط ختم کر دی گئی
-
سونے کی اونچی اڑان جاری، آج بھی ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا



















































