منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بلاول بھٹوزرداری کے وی آئی پی پروٹوکول نے 10 ماہ کی بچی کی جان لے لی

datetime 23  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سول اسپتال دورے کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث ایمرجنسی گیٹ پر 10 ماہ کی بچی والد کے ہاتھ میں تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی۔بلاول بھٹو زرداری وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کے ہمراہ ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنے سول اسپتال پہنچے اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث اسپتال میں مریضوں کا داخلہ بند کردیا گیا جب کہ ایمرجنسی گیٹ بھی بند ہونے کے باعث 10 ماہ کی بچی بسمہ والد کے ہاتھوں میں تڑپتی رہی اوربچی کا والد اس موقع پر دہائیاں دیتا رہا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور شدید بخار میں مبتلا 10 ماہ کی بچی طبی امداد نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی۔دوسری جانب بچی کے متاثرہ باپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 10 ماہ کی بسمہ شدید بخارمیں مبتلا تھی جسے ایک گھنٹے تک ہاتھوں میں اٹھائے ایمرجنسی گیٹ پر کھڑا رہا لیکن کسی نے کوئی فریاد نہ سنی اوراسپتال کے اندر جانے نہیں دیا جب کہ پروٹوکول پرماموراہلکاروں سے بھی منت سماجت کرتا رہا لیکن وہ یہی کہتے رہے کہ وی آئی پی موومنٹ ہے اس لئے اسپتال کے اندرجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کے باعث بسمہ طبی امداد نہ ملنے پرہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔ بدقسمت باپ کا کہنا تھا کہ بچی کو جب ڈاکٹروں نے دیکھا تو ان کا کہنا تھا کہ بچی کو اگر10 منٹ پہلے لے آیا جاتا تواس کی جان بچ سکتی تھی۔
ادھربلاول بھٹو زرداری اور قائم علی شاہ کی اسپتال آمد کے موقع پر50 سے زائد آپریشنز ملتوی کئے گئے اور آپریشن تھیٹرز 2 گھنٹے تک غیرفعال رہے جب کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعلی سید قائم علی شاہ کو فون کیا اور سول اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی جب کہ آصف زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی اسپتال کے افتتاح کے موقع پر تقریب منعقد نہ کی جائے اور پروٹول کے لئے اسپتالوں کے دروازے بند نہ کئے جائیں۔
43

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…