پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کیا ہورہاہے؟ سیکورٹی ایجنسیز کے انکشاف پر والدین پریشان

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کیا ہورہاہے؟ سیکورٹی ایجنسیز کے انکشاف پر والدین پریشان،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دو درجن سے زائد سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبہ کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط رکھنے کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ایک رپورٹ کے مطابق مذہب اور لبرل ازم کے نام پر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں پنپنے والے خطرے کی نشاندہی اور اس کا سد باب کرنے کے لئے کافی عرصے سے کام کیا جا رہا ہے۔آپریشن کا مقصد تعلیمی اداروں میں ایسے عناصر کا سراغ لگانا ہے جو نوجوان ، ناپختہ ذہنوں کو بھٹکا کر دہشتگردی جیسے مذموم مقاصد کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں۔اس حوالے سے کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے تین پروفیسرز اور ایک طالب علم کو مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط رکھنے کی اطلاعات پر حراست میں لیا گیاتاہم بعدا زاںایک پروفیسر کو چھوڑ دیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جن سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی کی جانے والی ہے اس میں پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے مختلف سرکاری و نجی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔جن میں پنجاب اور سندھ کے تعلیمی ادارے سرفہرست ہیں۔رپورٹ کے مطابق سیکورٹی ایجنسیز کے پاس بلوچستان،سندھ اور پنجاب کے ایسے اساتذہ اور طالبعلموں کے خلاف معلومات موجود ہیں جو خفیہ طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف میٹنگز کر کے انہیں سپورٹ اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کوشش کر رہے ہیں۔ایسی خفیہ ملاقاتوں کے لئے تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز اور ان کے باہر کی حدود کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔تاہم لاہور اور کراچی میں گزشتہ دنوںہونے والی گرفتاریوں کے بعد ایسے” سلیپر سیل“ چلانے والے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…