ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

ڈاکٹر عاصم کی بریت ،رینجرز کے وکیل نے بھانڈہ پھوڑ دیا،آج بڑا فیصلہ

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)ڈاکٹر عاصم کی بریت ،رینجرز کے وکیل نے بھانڈہ پھوڑ دیا،آج بڑا فیصلہ،رینجرز کے وکیل حبیب احمد نے کہا کہ تفتیشی افسر تبدیل ہوا اور سرکاری وکیل بھی تبدیل کردیا گیا ، اس میچ میں بالر اور بیٹسمین ایک ہی ٹیم کے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کیس میں تفتیشی افسر خود عدالت بن گئے۔تفتیشی افسر کو 497 کے تحت اے ٹی سی کا ملزم بری کرنے کا اختیار نہیں۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نعمت اللہ پھپھوٹو نے سابق وزیرپٹرولیم ڈاکٹر عاصم کی بریت سے متعلق تفتیشی افسر کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ جرم ہوا ہے اس لئے ملزم کو حراست میں لیا جائے اور (آج)منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔قبل ازیں نئے تفتیشی افسر نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے کیس میں سابق تفتیشی افسر نے زمینی حقائق کو نظر انداز کیا ،افسران بالا کی اجازت سے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعہ ختم کردی گئی۔ڈاکٹر عاصم کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔سابق آئی او کسی گواہ کو پیش نہ کرسکے۔مقدمےکا کوئی گواہ اور شہادت نہیں۔انسداد دہشت گردی کے مقدمے کی کوئی شہادت نہیں۔ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوںکہ مجھے نشانہ بنایاجارہا ہے۔میرا دل دکھی ہے اسی لئے آواز اٹھائی ہے۔ میں بھی فوجی ہوں، میری جان ملک کے لئے حاضر ہے۔یہ بل کی جعلی کاپی لارہے ہیں۔گن پوائنٹ پر ریکارڈپر قبضہ اور تبدیلی کی گئی۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے کہا کہ انہیں 4 دسمبر کو کیس کی تفتیش سونپی گئی لیکن سابق تفتیشی افسر نے تعاون نہیں کیا، کیس سے متعلق رینجرز سے تفصیلات حاصل کی گئیں تاہم ان کی جانب سے واجبات کی نقول اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جس کے بعد ڈاکٹرعاصم کو دفعہ 497 کے تحت بری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈاکٹر عاصم کیس کے نئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نثار احمد درانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ وہ پولیس کے تفتیشی افسر کی رپورٹ سے مطمئن ہیں، ڈاکٹرعاصم کوشخصی ضمانت پررہا کیا گیا لیکن اگر وہ کسی جرم میں ملوث پائے گئے توانہیں شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم سے تفتیش کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرعاصم کے اسپتالوں میں ان دہشت گردوں کا علاج کیا گیا جن کی گرفتاری پر حکومت سندھ نے انعام مقرر کررکھا تھا۔ رینجرز لاءآفیسر نے تفتیشی افسر کی رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تفتیشی افسر نے کیس کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب کہ چشم دید گواہ کے بیان حلفی سے بھی عدالت کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر عاصم نے بھی عدالت میں اپنا بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پہلے بھی کہا کہ میری جان کو خطرہ ہے، ان سے بندوق کی نوک پر بیان لیا گیا، ان کے ساتھ زیادتی بند ہونی چاہیئے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پوری رات کھڑا کر کے رکھا جائے۔قبل ازیں ڈاکٹر عاصم کے مقدمے میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو تبدیل کرنے کے فیصلے کو رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور رینجرز کے وکیل عنایت اللہ درانی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ محکمہ داخلہ نے چھٹی والے دن خاموشی سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مشتاق جہانگیری کو ہٹا کر اپنے من پسند وکیل نثار احمد درانی کو تعینات کر دیا۔ پراسیکیوٹر کی تبدیلی سندھ حکومت کی جانب سے بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے، حکومت سندھ ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔رینجرز کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ تفتیشی مراحل میں ہے اور اس دوران کسی کو بھی پراسیکیوٹر تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، تبدیلی غیر قانونی ہے لہذا عدالت مشتاق جہانگیری کو ہی مقدمے میں اسپیشل پراسیکیوٹر رہنے دیا جائے اور درخواست کو سماعت کے لئے منظور کیا جائے۔ عدالت نے رینجرز کی درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔دوسری جانب سول سوسائٹی کی ایک بڑی تعداد نے ڈاکٹر عاصم کی ممکنہ رہائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے ہاہر دھرنا دے دیا۔ سول سوسائٹی نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے غریب کے لئے الگ قانون جب کہ من پسند افراد کے لئے الگ قانون بنا رکھا ہے جو کسی صورت منظور نہیں، دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ڈاکٹر عاصم کو سخت سزا دی جائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹرعاصم پر اپنے اسپتال میں رعایتی نرخ پر دہشت گردوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے، انہیں 26 اگست کو ایک اجلاس کے دوران گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں 90 روز کے لئے رینجرز کی تحویل میں دیا گیا تھا ، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ڈی ایس آر عنایت اللہ کی مدعیت میں ڈاکٹرعاصم کے خلاف نارتھ ناظم آباد تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…