ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

افغان طالبان سے کس کو لڑائی کی ضرورت ہے ، اولسن نے بتا دیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)پاکستان اور افغانستان کے لیے امر یکہ کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو شکست دینے کے لیے انھیں افغان طالبان سے بھی لڑنا ہوگا.رچرڈ اولسن نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ اْن کے خیال میں پاکستانی حکومت اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان زیادہ خون خرابہ ہے اور یہ ان کی ایک خواہش بھی ہے کیوں کہ ماضی کی طرح یہ اْن کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، چاہے وہ اچھے اوربرے طالبان میں تمیز کے اپنے اصول پر قائم ہی کیوں نہ رہیں.رچرڈ اولسن نے مزید کہا کہ دہشت گردی، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاکرات میں امریکا نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے.انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف نہایت اہم اقدامات کیے ہیں اور امریکا، اسلام آباد پر اسی قسم کے اقدامات افغان طالبان کے خلاف اٹھانے پر بھی زور دیتا رہے گا.انھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانے بڑی حد تک تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کی ہمیں ایک طویل عرصے سے خواہش تھی.تاہم اولسن نے شکایت کی کہ پاکستان نے اپنی زیادہ تر توجہ ٹی ٹی پی پر مرکوز رکھی، بجائے بیرونی دہشت گردوں کے، جو اْن (پاکستان) کے ہمسایہ ممالک افغانستان یا ہندوستان کے لیے خطرات پیدا کرنے کا باعث ہیں.ایک سوال کے جواب میں اولسن نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) افغانستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ننگر ہار میں بڑی تعداد میں موجود ہے، لیکن بظاہر انھیں عراق اور شام میں موجود اپنے گروپ رہنماؤں سے ہدایات موصول نہیں ہو رہیں.انھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس طرح طالبان کے وہ دھڑے اور کمانڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کی تھیں. ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس سے خطرات میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس مشرق وسطیٰ سے افغانستان۔پاکستان تک مواد اور جنگجوؤں کے بہاؤ کے لیے کوئی براہ راست واسطہ نہیں ہے.ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ اولسن نے تسلیم کیا کہ رواں برس افغانستان میں لڑائی میں اضافہ ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف 2003 میں طالبان کے بانی کمانڈر ملا عمر کی ہلاکت کا انکشاف تھا.رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مختلف طالبان کمانڈروں کے درمیان بہت شدید مقابلہ تھا، جس کی وجہ سے افغانستان میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…