منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرکٹ ڈپلومیسی کے بعد اب درگاہ ڈپلومیسی، شہباز شریف کو دعوت مل گئی

datetime 20  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)پاک بھارت تعلقات میںدرگاہ ڈپلومیسی پھر سامنے آگئی ، شہباز شریف آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرسکتے ہیں۔بھارتی حکومت کی رضامندی سے شہباز شریف کو نظام الدین اولیاکی درگاہ کی انتظامیہ کی طرف سے مدعو کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے عرس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی گئی ہے۔بھارتی اخبارٹائمز آف انڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کا آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔دونوں اطراف کے حکام جنوری کے آخری ہفتے میں شہباز شریف کی نریندر مودی سمیت بھارتی رہنماوں کے ساتھ ملاقات کرانے کے لئے رابطے میں ہیں۔دونوں ممالک باہمی تعلقات کوآگے بڑھانے کے لئے شہباز شریف کے اس دورے سے فائدہ اٹھانے کے کوشش میں ہیں۔ درگاہ کے سجادہ نشین طاہر نظامی نے شہبا شریف کو مدعو کیے جانے کی تصدیق کردی ہے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کئی دہائیوں قبل درگاہ پر آئے تھے۔دونوں ممالک کی طرف سے اس دورے کو دو طرفہ جامع مذاکرات کے عمل کے دائرے کو بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گیتا کی وطن واپسی کے واقعے نے بھارتی حکام کی سوچ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے اس نئے موڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی سے آنکھیں پھیرے بغیر ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت سے توجہ ہٹا کر بھارت دونوں اطراف کے لوگوں کی مذہبی سیاحت اور انسانی مسائل پر توجہ دے۔رپورٹ کے مطابق 2016 کا سال پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم ہوگا جس میں دوطرفہ ملاقاتیں ہوں گی،۔آئندہ ماہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اپنے ہم منصب ایس جے شنکر سے ملاقات کیلئے بھارت میں ہوں گے جو دو طرفہ تعلقات اور امن بات چیت کے عمل کو بڑھانے کیلئے اہم ملاقات قرار دی جارہی ہے۔اس کے ساتھ درگاہ ڈپلومیسی کی اہمیت کو بھی دیکھا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…