پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

34 ریاستوں کا فوجی اتحاد،پاکستان کامعاملہ کچھ اورہی نکلا

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد( آن لائن ) سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے بغیر پوچھے اس کا نام 34 اسلامی ریاستوں کے اتحاد میں شامل کیے جانے پر جہاں پاکستان کے سرکاری ادارے حیرت کا اظہار کررہے ہیں وہیں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں شامل ہونے پر پاکستان کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ اس حوالے سے انھوں نے اخبار میں شائع ہونے والی خبر پڑھی جس پر انھیں حیریت ہوئی کہ سعودی عرب نے پاکستان کا نام فوجی اتحادی میں شامل کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انھوںنے ریاض میں موجود پاکستانی سفیر کو سعودی عرب سے اس بات کی وضاحت طلب کرنے کا کہا ہے۔ایک اور سرکاری عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اتحاد میں شامل کرنے کے حوالے سے پاکستان کو پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا.واضح رہے کہ گذشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں سعودی حکومت نے متعدد اسلامی ممالک کو ا±س وقت حیران کردیا تھا، جب کہا گیا کہ ا±ن کا نام عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں مدد اور حمایت کے لیے قائم ایک اتحاد میں شامل کیا گیا ہے، جس کی قیادت سعودی عرب کرے گا اور اس کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں قائم کیا جائے گا۔خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے علم میں لائے بغیر اسے فوجی اتحاد کا حصہ قرار دیا ہے۔اس سے قبل بھی سعودی عرب نے یمن کے فوجی آپریشن میں مدد فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جانے والے فوجی اتحاد کے میڈیا آفس میں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔تاہم پاکستان کی جانب سے بعد ازاں یمن جنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا گیا۔یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی پالیسی میں شامل ہے کہ اقوام متحدہ امن مشن کے علاوہ اس کی فوج ملک سے ہابر تعینات نہیں کی جائے گی۔اس سے قبل پاکستان امریکا کی جانب سے داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے سے دو بار انکار کرچکا ہے.داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے مبینہ اتحادی کے طور پر شامل ہونے کے حوالے سے گذشتہ ماہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ’ہم خطے سے باہر فوج کی شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتے‘۔یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ ریاض کی جانب سے پاکستان کو نئے اتحاد میں شامل کرنے کا اعلان کن وجوہات کی بنائ پر کیا گیا.یہ بھی یاد رہے کہ امریکا شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح لڑائی کرنے والوں کو مدد فراہم کررہا ہے اور دوسری جانب داعش کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے۔ادھر ایران، عراق میں داعش کے خلاف جاری جنگ میں عراقی فوج اور رضاکاروں کی قیادت کررہا ہے اور امریکا، عراق میں داعش کے خلاف جاری زمینی آپریشنز کو فضائی مدد فراہم کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…