جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی پھر حکومت پر چڑھائی،خوب برسے

datetime 13  دسمبر‬‮  2015 |

پشاور(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارا چنار میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورا پاکستان ایک پیج پر ہے،فیصلہ کر لیا کہ پاکستان سے دہشتگردی ختم کر کے ملک میں امن قائم کرنا ہے،ہماری حکومت کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالتی ہے تووہ سٹے آرڈر لے آتے ہیں، ہماری حکومت کسی کرپٹ آدمی کو نہیں چھوڑے گی،پیسے کے پیچھے بھاگنے والی سوچ کبھی بڑآدمی نہیں بناسکتی ، پاکستان کو سبز پاکستان بنائیں گے۔وہ اتوارکو پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی صدسالہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے پاراچنار میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سارا پاکستان ایک پیج پر ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان سے دہشتگردی ختم کرنی ہے اور ملک میں امن قائم کرنا ہے،کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تووہ سٹے آرڈر لے آتے ہیں لیکن اب ہماری حکومت کسی کرپٹ آدمی کو نہیں چھوڑے گی۔ عمران خان نے کہا کہ مہنگی گھڑیاں اور ڈیزائنر کپڑے پہننے والے بڑے آدمی نہیں بن سکتے،پیسے کمانے والی سوچ کبھی بڑی نہیں ہوسکتی،عظیم انسان بننے کیلئے اچھی سوچ ضروری ہے،ساڑھے 3 ارب عوام کی دولت 80 امیرلوگوں کے پاس ہے،دنیا کی تاریخ کسی امیر آدمی کو نہیں جانتی،بڑے محلات بنانے والوں کو دنیا یا دنہیں رکھتی،دنیا انسانیت پر دولت خرچ کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے،دنیا میں آنے کا مقصد اللہ کی زمین پر انصاف کا نظام قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ایک نیا پاکستان بنائیں گے ، ہمارا مقصد ہونا چاہیے کہ جب ہم دنیا سے جائیں تو غربت ختم کرکے جائیں۔ تعلیم برے وقت کا مقابلہ کرنا سکھاتی ہے،کبھی بھی ڈرنا نہیں اور اپنے خوف پر قابو پانا ہے۔عزت اللہ دیتا ہے انسان کسی کو عزت نہیں دے سکتا۔بڑے خواب کی تعبیر میں مشکلات آتی ہیں ،لوگوں نے کہا کہ 2 پارٹی سسٹم میں تیسری پارٹی نہیں آسکتی، لوگوں نے کہا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال نہیں بن سکتا لیکن ہم 29 دسمبر کو شوکت خانم ہسپتال پشاور کا افتتاح کریں گے،کچھ بڑاکرنے کیلئے بڑے خواب ہونے چاہئیں۔عمران خان نے کہا کہ 2018 تک خیبر پختونخوامیں ایک ارب درخت لگائیں گے اور پاکستان کو سبز پاکستان بنائیں گے، خیبر پختونخوا میں تعلیم اور صحت کا نظام درست کریں گے اور لوگوں پر پیسہ خرچ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…