جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں انتخابی معرکہ

datetime 5  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ان بلدیاتی انتخابات میں پہلے اوردوسرے مرحلے کی طرح ایک بارپھرآزادامیدوارسب سے آگے ہیں ،پنجاب میں ن لیگ جبکہ کراچی میں سب سے زیادہ نشتیں ایم کیوایم نے حاصل کی ہیں ۔پنجاب کی 2497 نشستوں میں سے450 کے غیر سرکاری نتائج موصول ہو گئے ہیں جن میں آزاد امیدوار 220 نشستوں کے ساتھ سرفہرست چل رہے ہیں جبکہ ن لیگ 185 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔پاکستان تحریک انصاف 37،پیپلز پارٹی 11 جبکہ دیگر جماعتوں نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔سندھ کی 456 نشستوں میں سے دو کے نتائج موصول ہو ئے ہیں جس میں سے ایک پیپلز پارٹی اور ایک ایم کیوایم نے حاصل کی ہے جبکہ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوار ووٹوں کی گنتی میں آ گے چل رہے ہیں۔راولپنڈی میں ن لیگ کے امیدوار یوسی 7 سے 2687 ووٹ لے کر چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں،دوسری جانب کراچی کی یوسی 26 سے ایم کیوایم کے امیدوار نے میدان مار لیاہے ،ضلع غربی کی یوسی 26 سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار شیخ کلیم چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے محمد فاروق دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سلطان احمد بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں جبکہ کراچی میں مجموعی طور پر مختلف جماعتوں کے 41 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو ئے ہیں۔پنجاب میں مجموعی پر ن لیگ کے 43 ،ا?زاد 27،پی ٹی آئی 15 اور پیپلز پارٹی کے 4 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔اسی طرح جھنگ کی یو سی آٹھ اور 84 سے دو آزاد امیدوار کامیاب،لیہ،کی ایم سی چوبارہ، وارڈ دس میں مسلم لیگ ن کا امیدوار کامیاب۔مظفر گڑھ سے آزاد امیدوار 24 ، ن لیگ تین اور جے یو آئی کے دو امیدوار کامیاب،میونسل کمیٹی مظفر گڑھ سے چھ آزاد امیدوار کامیاب،سیالکوٹ ڈسٹرکٹ کونسل کے 11 وارڈ کے نتائج،11 وارڈز پر آزاد امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔میونسپل کمیٹی سمبڑیال، ایک وارڈ پر پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب،ملتان کی یوسی 25 سے ن لیگ کے سعید احمد انصاری کامیاب،ڈی جی خان میں 51 وارڈز پر آزاد امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…