جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

افغانستان نے پھر پاکستان سے امیدیں قائم کرلیں

datetime 3  دسمبر‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)افغان صدراشرف غنی نے کہاہے کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیںاور تعلقات میں بہتری کے لیے پرامید ہیںاوراس سلسلے میں بات چیت جاری ہے،پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے، ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے،اشرف غنی نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ کابل حکومت کی امن بات چیت دوبارہ شروع کرانے میں اپنا کردار ادا کرے، اشرف غنی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان جلد ہی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے نئے دور کا انعقاد کروا لے گا،اشرف غنی نے مفاہمتی بات چیت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کے حوالے سے محتاظ رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت پر غور کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اشرف غنی نے کہاکہ ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے ہمسائیہ ممالک کی حمایت ناگزیر ہے ¾ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہمسائے ممالک خاص طورپر پاکستان افغانستان میں ٹھوس امن اور استحکام کےلئے خالص پالیسی اختیار کریں ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں پاکستان امن مذاکرا ت کےلئے پورے عزم کے ساتھ حمایت کرے کیونکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن اوراستحکام کا حصول مشکل ہے ۔صلاح الدین ربانی نے کہاکہ نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے ایک بار پھر افغان سکیورٹی فورسز کو 2017ءتک ساڑھے چار ارب ڈالر امداد دینے کااعلان کیا ہے ہم ان کے ساتھ ملکر سکیورٹی بڑھانے امن کے فروغ ¾ انسانی حقوق کے احترام اور نیٹو و اتحادیوں کے ساتھ ملکر قوانین بنائینگے ۔واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جبکہ پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ایک بیان میں افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے بھرپور تعاون کااعلان کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…