جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کراچی کے لوگوں میں نفرت پھیلا کر سیاست کی گئی :عمران خان

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)کستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے لوگوں میں نفرت پھیلا کر سیاست کی گئی جس کی وجہ سے روشنیوں کا شہر تاریکیوں اور خون کی ندیوں میں ڈوب گیا،کرپٹ لوگوں کی یونین بنی ہوئی ہے سیکیورٹی ادارے جب ایک پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو سب اکھٹے ہو جاتے ہیں۔شہر میں لسانی اور صوبائی تضادات پھیلانے سے پاکستان کا معاشی حب تباہ ہو گیا اور صرف دو سالوں میں کراچی کے کاروباری طبقے نے دبئی میں 430ارب روپے کی پراپرٹی خریدی جس کی وجہ سے قوم کا یہ پیسہ باہر چلا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ 30سال قبل کراچی میں پانی ،بجلی ،روشنیاں اور امن تھا ،لوگ راتوں کو شہر کی سڑکوں پر بغیر کسی ڈر کے چلتے پھرتے تھے لیکن پھر یہ شہر لسانی اور صوبائی فسادات کی بھینٹ چڑھ گیا جس کی وجہ سے شہر کا امن خراب ہوا اور لوگوں کا خون بہایا گیا۔لیاری کے علاقے ککری گراونڈ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر 30سال قبل خون کی سیاست شروع نہ ہوتی تو دبئی کے لوگ کراچی میں آتے۔کراچی پاکستان کا معاشی حب تھا جسے تباہ کردیا گیا جس سے پور ا ملک معاشی طور پر کمزور ہوا۔ عمران خان نے مثال دی کہ اگر برطانیہ کے معاشی حب لندن کو تباہ کردیا جائے تو پور ا برطانیہ تباہ ہو جائے ،امریکہ کے معاشی حب نیو یارک میں 9/11کا واقعہ پیش آیا جس میں چند ہزار امریکی ہلاک ہوئے تو امریکی حکام نے لاکھوں افراد کا خون بہادیا۔عمران خان نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کو تقسیم کیا گیا لیکن اب تحریک انصاف نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی ذمہ داری لے لی ہے۔انہوں نے کہا کو مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا ،ایسے لوگوں کو ووٹ نہ دیں جو بار بار باریاں لگا چکے ہیں۔نواز شریف اور زرداری کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں ،ان پر جب بھی برا وقت آیا تو یہ باہر دوڑ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ،نواز شریف اور زرداری پر جب کوئی مشکل آتی ہے تو یہ پنجابی ،سندھی ا ور مہاجر کے نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں۔تمام جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن جب اس پر عملد در آمد کر کے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالا گیا تو دونوں جماعتوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے بات کی ،میاں نوازشریف نے بھی خوف کی وجہ سے ان کے تحفظات دور کیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…