جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کم کی جائے,اوباما

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دلیرانہ اقدامات کیے جائیں۔ بحیرہ جنوبی چین کے مختلف علاقوں پر فلپائن سمیت چھ ممالک ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں مگر سب سے زیادہ علاقے کی ملکیت کا دعویدار چین ہے۔منیلا میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس کے موقع پر فلپائن کے صدر بینِگنو اکینو سے دوطرفہ ملاقات کے بعد صدر اوباما نے چین کی سرگرمیوں کی طرف توجہ مبذول کروائی جس سے علاقے میں اور امریکہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔صدر اوباما نے کہا کہ ’’ہم نے چین کی طرف سے زمین کی بحالی اور تعمیری سرگرمیوں کے علاقائی استحکام پر اثرات کا جائزہ لیا۔ ہم نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دلیرانہ اقدامات پر اتفاق کیا جس میں بحیرہ جنوبی چین کے متنازع علاقے میں بحالی کے مزید کام، نئی تعمیرات اور فوجی سرگرمیاں روکنے کا عزم شامل ہے۔‘‘چین دو سال سے سمندر کی تہہ میں سے ریت کھول کر وہاں موجود چٹانوں کو مصنوعی جزائر کی شکل دینے کے کام میں مصروف ہے جس سے اس کے ہمسایہ ممالک میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ان نئے جزائر میں سے دو پر فضائی پٹیاں اور بندرگاہیں تعمیر کی گئی ہیں جو ہوائی اور بحری جنگی جہازوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین نے اپنے منصوبوں کی وضاحت نہیں کی۔چین کا مؤقف ہے کہ پورے علاقے پر اس کی ’’حاکمیت ناقابل تردید‘‘ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان تنازعات میں بیرونی طاقتوں کو ملوث ہونے کی ضرورت نہیں۔ فلپائن نے چین کی ملکیت کے دعوے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔صدر اوباما نے امریکہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار ہے مگر فلپائن کے لیے اپنی ٹھوس حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…