اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

امریکہ سعودی عرب اسلحہ ڈیل اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گی،سربراہ اتحادی فوج

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(نیوزڈیسک)یمن میں آئینی حکومت کی بحالی اور حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنر عسیری نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے گولہ بارود کے معاہدے کے بعد اتحادی فوج کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے ریاض کو جدید نوعیت کے گولہ بارود اور دیگر اسلحہ کی فراہمی سے غیرملکی مداخلت کو روکنے اور دشمن کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یمن میں جاری فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے بھی یہ ڈیل اہم کردار ادا کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ امریکا کا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے اسلحہ کی تازہ ڈیل دونوں ملکوں کے یمن میں جاری آپریشن کے حوالے سے ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ دونوں ملکوں نے یمن میں آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے یہ طے پایا ہے کہ یمن میں شہری آبادی کو گولہ باری کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران یمن کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں ماہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ان کے ملک نے سعودی عرب کی جانب سے 17 ہزار کی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کی درخواست منظور کر لی تھی۔ جس کے بعد امریکا نےریاض کو 1.29 بلین ڈالر مالیت کا جنگی سازو سامان فروخت کیا تھا۔ اس اسلحہ اور گولہ بارود کو یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں دولت اسلامی “داعش” کے خلا ف استعمال کیا جائے گا۔سعودی عرب کی جانب سے “بی فوائی 2″، “بی ایل یو117” اور ہزاروں کی تعداد میں جدید اسمارٹ بم اور پرانے ماڈل کے بموں کی فراہمی کی درخواست دی گئی تھی۔امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی امریکی صدر باراک اوباما کی اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کے اعلانات کا حصہ ہیں جو انہوں نے ایران متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی سلامتی کے حوالے سے کیے تھے۔رواں سال ستمبر میں سعودی عرب سمجھوتے کے تحت واشنگٹن سے “پیٹریاٹ بی اے سے 3” 600 کی تعداد میں خرید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ “لوک ھیڈ مارٹن” امریکی اسلحہ ساز فرم ان میزائلوں کی مالیت 5.4 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔اس کے علاوہ امریکا نے سعودی عرب کو”لیٹوریل” نامی چار جنگی کشتیاں بھی 11.25 ارب ڈالر میں فرخت کی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…