اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

9/11 دھماکوں کےلئے فنڈنگ بھارت سے ہوئی تھی،بھارتی سی بی آئی کے اعلی افسر کا انکشاف

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
NEW YORK - SEPTEMBER 11, 2001: (SEPTEMBER 11 RETROSPECTIVE) Smoke pours from the twin towers of the World Trade Center after they were hit by two hijacked airliners in a terrorist attack September 11, 2001 in New York City. (Photo by Robert Giroux/Getty Images)

نئی دہلی(آئی این پی ) بھارتی خفیہ ایجنسی ”سی بی آئی“ کے اعلی افسر اور نئی دہلی کے سابق پولیس کمشنر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں ہونے والے 9/11 دھماکوں کےلئے فنڈنگ بھارت سے ہوئی تھی۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے آل لائن ایڈیشن پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے سابق سی بی آئی افسر نراج کمار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں ہونے والے 9/11 دھماکوں کے لئے فنڈنگ بھارت میں کی گئی، فنڈنگ اغوا برائے تاوان کے ذریعے کی گئی اور عمر شیخ نے یہ رقم حملہ آور عطا محمد کو فراہم کی۔عمر شیخ کو یہ رقم دہشت گرد آفتاب انصاری نے فراہم کی تھی جو کلکتہ میں واقعہ امریکن سنٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ آفتاب انصاری امریکن سنٹر پر حملے کے الزام میں اس وقت مغربی بنگال کی جیل میں قید اور سزائے موت کا منتظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سب معلومات حرکت المجاہدین کے رکن آصف رضا خان نے فراہم کیں تھیں جب کہ عمر شیخ کو بھارت نے انڈین ایئر لائن کا ہائی جیک جہاز واپس کرنے کے بدلے میں 1999 میں رہا کردیا تھا۔نراج کمار کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے لئے عطا محمد کو پیسوں کی فراہمی کی تصدیق ایف بی آئی کے کانٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جان ایس پسٹول نے بھی امریکی سینیٹ کی دہشت گردوں کی معاونت کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے سامنے 2003 میں تصدیق کی تھی۔واضح رہے کہ 9 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام امریکا نے القاعدہ پر لگا کر افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…