جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کاضلعی سطح پر قائم گورنمنٹ ڈگری کالجوں کو ماڈل کالج بنانے کا حکم

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبہ بھی میں ضلعی سطح پر قائم گورنمنٹ ڈگری کالجوں کو ماڈل کالج بنانے کا حکم دیا ہے اور پانچ ارب روپے کی لاگت سے مختلف اضلاع میں 16 نئے کالج قائم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ان کالجوں کی تعمیر کے منصوبے پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے جنوبی اضلاع میں تیل اور گیس کی رائلٹی کی آمدن تیل اور گیس کی پیداوار والے علاقوں میں گیس کی فراہمی، اعلیٰ تعلیم اور پینے کے پانی کی سکیموں پر خرچ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے یہ احکامات اُنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے میں نئے کالجوں کے قیام اور گیس کی رائلٹی کی آمدن سے ترقیاتی سکیموں سے متعلق الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ، کمشنر کوہاٹ ، سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے جنرل منیجر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی نئے کالجوں سے متعلق اجلاس میں وزیراعلی ٰ نے صوبہ بھر میں تمام مجوزہ کالجوں کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لیا اور 19 میں 16 کالجوں کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے ان پر کام شروع کرنے کیلئے امبریلا پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت کی جن 16 کالجوں کی منظوری دی گئی اُن میں 10 گرلز اور چھ بوائز کالج شامل ہیں اور یہ کالج سوات، اپر دیر، لوئر دیر، ایبٹ آباد، پشاور، چترال، بونیر ، نوشہرہ، ڈی آئی خان، مردان، لکی مروت اور چارسدہ کے اضلاع میں قائم کئے جائیں گے وزیراعلیٰ نے اس موقع پر محکمہ کو ہدایت کی کہ موجودہ صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق تمام نئے کالج ڈیزائن، تعمیر ، گنجائش اور سہولیات کے اعتبارسے اعلیٰ اور یکساں معیار کے تعمیر کئے جائیں جنوبی اضلاع میں گیس رائلٹی کی سکیموں کے بارے میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ہدایت کی کہ گیس فیلڈز کے اردگرد پانچ کلومیٹر تک کے علاقوں میں رائلٹی کی آمدن سے مقامی لوگوں کیلئے سوئی گیس، پینے کے پانی کی فراہمی اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی آبادی کی یہ دیرینہ ضروریات پوری ہو سکیں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ رائلٹی کی مد میں جاری شدہ فنڈز بھی ان سکیموں کیلئے دستیاب ہیں وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کی ڈویژنل انتظامیہ سے کہاکہ وہ گھریلو صارفین سے گیس کے بلوں کی ادائیگی کی یقین دہانی حاصل کرنے اور ترقیاتی سکیموں کی ترجیحات و نشاندہی کیلئے ہر ضلع میں مقامی ایم پی اے ز، ضلع ناظم، ڈپٹی کمشنر اور سوئی گیس حکام پر مشتمل کمیٹیاں بھی قائم کرے تاکہ ان سکیموں سے متعلق مشاورت اور ترجیحات کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…