جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کا زلزلہ متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

، بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ چترال ،فاٹا ،گلگت بلتستان سمیت زلزلہ سے متاثر ہونے والے تمام علاقوں میں فی کس 2 ہزار خیمے،2 ہزار کمبل اور2 ہزار چٹائیاں تقسیم کر دی گئیں ہیں،وزیر اعظم نے فوج اور امدادی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ،اجلاس میں زلزلہ متاثرین کو امداد کے حوالے سے طویل مشاورت کی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے ایک متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا ۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور امداد کیلئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے زلزلہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کو فی کس 6 لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ اس افسوس ناک سانحہ میں زخمی ہونے والے افراد کو فی کس ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے ،جسمانی اعضاءسے محروم ہونے والے افراد کو فی کس 2 لاکھ روپے ملیں گے ،وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ زلزلہ سے مکمل تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کیلئے فی کس گھرانے کو2 لاکھ روپے اور جزودی طور پر گھروں کے نقصانات کے ازالہ کیلئے فی کس گھرانہ ایک روپے دیئے جائیں گے ،وزیر اعظم نے کہا کہ اسی پیکج کے تحت گلگت بلتستان اور فاٹا کے علاقوں میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کو امداد دی جائے گی تاہم یہ امداد وفاقی حکومت خود ادا کرے گی اگر ان علاقوں میں خیبر پختونخوا حکومت اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…