اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیراطلاعات ونشریات وقومی ورثہ سینٹرپرویز رشید نے کہاہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بتدریج وسعت آ رہی ہے اور اب یہ صرف فوجی تعلقات تک محدود نہیں ہیں، پاکستان اور امریکہ چیزوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیںامریکہ اس خطے میں 25 سال سے موجود بھی ہے اگرچہ محدود واپسی شروع بھی ہوئی ہے لیکن اس کے مستقل مفادات بھی ہیں، بھارت اور امریکہ کے بھی تعلقات موجود ہیں یقیناً جب ملاقات ہو گی تو ان تعلقات پر بھی بات ہو گی ایک دوسرے کو اپنے خیالات کے مطابق دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ اور ہماری کوشش ہوگی کہ انھیں ہم اپنا موقف سمجھا بھی سکیں،نوازشریف امریکہ علاقے میں امن کا ایجنڈا لیکر گئے ہیں،افغانستان طالبان سے پاکستان نے بات چیت کا عمل شروع کیاتھا مگر پھر کسی نے اسے سبوتاژ بھی کر دیا،برطانوی نشریاتی ادارے بی بی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات وقومی ورثہ سینٹرپرویز رشید نے کہاکہ امریکہ کے ساتھ پہلے صرف فوجی نوعیت کے تعلقات ہوتے تھے جو اچھے رہے اور جن سے پاکستان کو بہت فائدہ بھی ہوا لیکن اب تعلقات وسیع ہو رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ فوجی تعلقات کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے تعلقات جیسے کہ تعلیم، صحت، توانائی کے مسائل وغیرہ میں بھی انھوں نے دلچسپی کا اظہار کرنا شروع کیا ہے بہت سے سماجی شعبوں میں وہ پہلے سے موجود بھی ہیں تو ان موضوعات پر بات کرنے کا یہ بہترین موقع ہے وزیر اعظم ان تمام موضوعات پر اپنا موقف پیش کریں گے،پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ چیزوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیںامریکہ اس خطے میں 25 سال سے موجود بھی ہے اگرچہ محدود واپسی شروع بھی ہوئی ہے لیکن اس کے مستقل مفادات بھی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کے بھی تعلقات موجود ہیں یقیناً جب ملاقات ہو گی تو ان تعلقات پر بھی بات ہو گی ایک دوسرے کو اپنے خیالات کے مطابق دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ اور ہماری کوشش ہوگی کہ انھیں ہم اپنا موقف سمجھا بھی سکیں،ایک سوال کے جواب میں کہ وائٹ ہاو ¿س کے اس بیان پر کہ امریکہ خطے کی صورت حال پر بات کرنا چاہے گا لیکن پاکستان کون سا ایجنڈا لے کر گیا ہے، پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ہمارا ایجنڈا بھی علاقے کا امن ہے جس سے ہم اپنے مسائل پر قابو پا سکیں گے لیکن یہ امریکہ کا نقطہ نظر ہو گا، اس میں ہمارا بھی موقف ہے اور وزیر اعظم وہ موقف پیش کرنے کی کوشش کریں گے،افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پاکستان امریکہ کو کوئی یقین دہانی کروا سکتا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بات چیت کا عمل تو شروع کر دیا تھا اور وہ پاکستان کی سرزمین پر ہوئی اور اسے خوش آئند بھی سمجھا گیا لیکن پھر کسی نے اسے سبوتاژ بھی کر دیا،انھوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے بنانے کی تصدیق کا اس وقت مقصد امریکہ کو ڈرانا ہے۔ ’ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کی ہر وقت تیاری کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہماری آزادی کو کہیں نہ کہیں سے خطرے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔
امریکہ سے تعلقات صرف فوجی نوعیت کے نہیں رہے،پرویز رشید
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول کتنے روپے سستا ہوگا؟ وزیراعظم نے عوام کو خوشخبری سنا دی
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، وزیراعظم کا آج قوم سے خطاب متوقع
-
تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
مہنگی ایل پی جی سے ستائے عوام کے لیے اچھی خبر، قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، سعودی عرب کا اہم بیان سامنے آگیا
-
جائیداد رکھنے، خرید و فروخت کرنے والوں پر بڑی شرط عائد کرنے کی تیاری
-
ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 100روپے تک کمی کا امکان،وزیراعظم کا قوم سے خطاب متوقع
-
موبائل سمز اور بینک اکاؤنٹس بلاک ہونے کا خدشہ ، نادرا نے شہریوں کو خبردار کردیا
-
9 اور 10 اپریل کو مقامی چھٹی کا اعلان
-
ایران جنگ بندی کیلئے امریکا نے پاکستان پر دبا ڈالا، ٹرمپ 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے،برطانوی ا...
-
پی ایس ایل 11: شائقین کیلیے بڑی خبر آگئی
-
لبنان میں اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل سامنے آگیا



















































