ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 177 تک جاپہنچی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

دبئی(این این آئی) سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 177 تک جاپہنچی امریکی خبر رساں ادارے (اے پی) کے اعداد و شمار کے مطابق سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 177 تک جاپہنچی ۔سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے یہ اعداد و شمار 180 میں سے ان 30 ممالک کے سرکاری میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں، جن کے شہری رواں سال حج کےلئے گئے تھے۔اعدادو شمار کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے حجاج میں سب سے زیادہ تعداد ایران کی جس کے 465 حاجی جاں بحق ہوئے ¾ مالی کے 254، نائجیریا کے 199، کیمرون 76، نائیجر 72، سنیگال کے 61، آﺅری کوسٹ کے 52 اور بینن کے 52 حاجی سانحے میں جاں بحق ہوئے سانحے میں جاں بحق ہونے والے دیگر ممالک میں مصر کے 182، بنگلہ دیش کے 137، انڈونیشیا کے 126، بھارت کے 116، پاکستان کے 102، ایتھوپیا کے 47، چاڈ کے 43، موروکو کے 36، الجیریا کے 33، سوڈان کے 30، برکینا فاسو کے 22، تنزانیہ کے 20، سومالیہ کے 10، کینیا کے 8، گھانا کے 7، ترکی کے 7، میانمار کے 6، لیبیا کے 6، چین کے 4، افغانستان کے 2 جبکہ اردن اور ملائشیا کے ایک، ایک حاجی شامل ہیں۔سانحہ منیٰ 24 ستمبر کو رمی کے دوران بھگڈر مچنے سے پیش آیا تھا جس میں جاں بحق ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سیکڑوں افراد لاپتہ بھی ہوگئے سعودی حکام کی جانب سے حادثے کے دو دن بعد 26 ستمبر کو 769 افراد کے جاں بحق ہونے اور 934 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم اس کے بعد حکام نے ہلاکتوں میں اضافے اور زخمیوں کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…