ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

امریکا سے اسٹریٹجک استحکام سمیت پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات ہو گی، سیکریٹری خارجہ

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکا سے اسٹریٹجک استحکام سمیت پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات ہو گی،سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا میں تجارت اورسرمایہ کاری بڑھانے سمیت اسٹریٹجک استحکام پربات ہو گی جب کہ اس دوران پاک بھارت کشیدگی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کا دورہ امریکا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہم امریکا سے عوامی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، حکومت توانائی سمیت اقتصادی شعبوں میں بہت کام کررہی ہے اور پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام بڑھا ہے جب کہ ہم چاہیں گے 2 سال میں حکومت نے جوکام کیے وہ امریکی حکومت کو بتائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا جب کہ پاکستان میں ایٹمی سیفٹی سے متعلق کوئی حادثہ نہیں ہوا اور ایٹمی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کے اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے۔اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ اقتصادیات اور دیگر شعبوں میں امریکی شراکت بہت ضروری ہے جب کہ امریکی حکام سے ملاقاتوں میں تجارت اورسرمایہ کاری بڑھانے سمیت اسٹریٹجک استحکام اور پاک بھارت کشیدگی کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کیلیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جب کہ جنوبی ایشیا میں امریکا، پاکستان اور بھارت سے متعلق متوازن رویہ رکھے۔سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی فورسز ملک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں، دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا اور حالات بہتر ہونے سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے جب کہ ایسے میں پاکستان بھارت سے کنٹرول لائن پر کشیدگی کیوں بڑھائے گا تاہم بھارت اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو کنٹرول لائن پر کام نہیں کرنے دیتا۔ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان سے مفاہمت کا عمل خطے میں امن کا باعث بن سکتا ہے جب کہ مفاہمت کا عمل بڑھا کر ہی افغانستان میں پائیدار امن لایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…