ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

اداروں ، افراد کا آئینی حدود سے تجاوز،دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی آمریت ہے،زرداری

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق صدر آصف زرداری نے سانحہ کارساز کے شہداسے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں اور افراد کا اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنا،دوسرے اداروں کے معاملات اوراختیارات میں دخل اندازی آمریت ہے۔ سانحہ کارساز کے 8 سال مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کسی کوبھی پارلیمان کی حیثیت میں کمی نہیں کرنے دے گی،آمریت کیخلاف پارلیمان ہماری ڈھال ہے ، اسے مستحکم اورمضبوط کرناہے۔آمریت مختلف اوقات میں مختلف صورتوں میں دوبارہ سراٹھاتی ہے،اداروں اور افراد کا اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنا آمریت ہے،دوسرے اداروں کے معاملات،اختیارات میں دخل اندازی بھی آمریت ہے۔ آمرانہ ذہنیت رکھنے والوں کو چور دروازہ استعمال کرنے سے روکنا ہوگا،ملک سے دہشتگردی اورڈکٹیٹرشپ کے خاتمے کیلئے کام کرتے رہینگے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کارسازمیں جمہوریت کیلئے جان دینے والے شہداکوسلام پیش کرتے ہیں۔شہدانے پیپلزپارٹی کی جمہوریت ومساوات کے مشن کیلئے قربانی دی۔ پیپلزپارٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے عزم کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی اور جمہوری قوتوں کی مکمل فتح تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔ شہید ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر کے مشن پر کام کرتے رہیں گے،ہم شہدا کے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے،18اکتوبر2007کوجمہوری قوتوں،انتہاپسندوں میں صف بندی واضح ہوگئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…