جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بنی گالہ پر اعتراض کیوں، قائداعظم کا گھراس سے بھی بڑا تھا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد‘نتھیا گلی(نیوزڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبے حقوق مانگیں تو وہاں فوجیں بھجوا دیتے ہیں‘ کیا یہی انصاف ہے‘ ان صوبوں کے وسائل تو بھرپور طریقے سے استعمال کیے جاتے ہیں ‘حقوق دینے کا وقت آئے فوج کشی کر دی جاتی ہے ‘بلوچستان میں ظلم کی انتہاہے‘فوجی آپریشن بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں‘بلوچ عوام کو اختیارات دینے ہوں گے‘عوام کاپیسہ سیاستدانوں پر خرچ ہورہاہے‘ٹیکس اکٹھا نہیں ہوگاتوملک مقروض رہے گا‘حکمرانوں نے ملک گروی رکھ دیا‘پوری قوم کو آئی ایم ایف کا غلام بنادیا گیا ‘موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں یہودی لابی کو سازش کی کیا ضرورت ہے ‘بنی گالہ میں اگرمیرابڑاگھرہے کسی کو اعتراض کیوں ہے‘ قائداعظم کا گھراسسے بھی بڑاتھا‘میری مرضی میں اسے آگ لگادوں اپنے پیسوں سے بنایاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نتھیاگلی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگلے مرحلے میں مذید سولہ سرکاری ریسٹ ہائوسز کو ترقیاتی اتھارٹیز کے سپرد کر دیا جائے گا‘جب تک عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر خرچ نہیںہوگاٹیکس کلچر عام نہیں ہو سکتا‘ہر پاکستانی ایک لاکھ دس ہزارروپے کا مقروض ہے ‘چیف سیکریٹری ریسٹ ہائوس کو محکمہ سیاحت کے حوالے کر دیا ‘ایک وقت آئے گا سارے سرکاری ریسٹ ہائوس محکمہ سیاحت کے پاس ہوں گے اور اسے آمدن کا اہم ذریعہ بنایا جائے گا‘نتھیاگلی کے گورنر ہائوس میں 40سے زائد ملازمین تعینات ہیں ‘ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ان عالیشان عمارتوں پر خرچ ہو رہا ہے ‘گورنر ہائوس کو بجٹ دینا ہماری پالیسی کا حصہ نہیں ‘اگر وزیر اعلی کو سیکورٹی کا مسئلہ نہ ہوتا تو اب تک وزیر اعلی ہائوس خالی ہو چکا ہو تا‘تقریب میں وزیر اعلی پرویز خٹک نے تصدیق کی کہ وہ وزیر اعلی ہائوس کی سہولت کے باوجود اس کی انیکسی میں رہتے ہیں‘ عمران خان نے کہا کہ اس سال پشاور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال شروع ہو جائے گا‘یہودیوں کو سازشوں کی ضرورت نہیں ہے ہمارے حکمران ہی کافی ہیں‘وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کو بجلی، گیس ، پانی کے پورے حقوق نہیں دیے جا رہے‘یہی وجہ ہے کہ جب چھوٹے صوبوں کو حقوق نہیں ملتےتو بے چینی بڑھتی ہے ‘بلوچستان میں آگ لگی ہے‘ چھوٹے صوبوں کے وسائل تو استعمال کیے جاتے ہیں وہ حقوق مانگتے ہیں تو ان پر حملے کے لیے فوجیں بھجوا دیتے ہیں ‘یار محمد رند کی شمولیت کے موقع پر عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ظلم کی انتہا ہے‘ فوجی آپریشن بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں‘ بلوچستان میں الیکشن نہیں صرف کارروائی ہوئی، بلوچستان کے لوگ کسی وجہ سے بندوق اٹھاتے ہیں،اقتصادی راہدری کےلئے مختصر کی بجائے طویل روٹ استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں پتہ ہے کہ راہداری منصوبے میں کمپنیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے،ایسے لوگوں کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں گے اور انہیں عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے‘ اس موقع پرسردار یارمحمد رند نے کہا ہے کہ نئے سفر کاآغاز کررہا ہوں‘عمران خان جب آئیں گے تو میراقبیلہ تحریک انصاف میں شامل ہوجائے گا ‘دوسال کی سوچ بچار کے بعدتحریک انصاف میں شمولیت کافیصلہ کیا‘ بلوچستان اس وقت حالت جنگ میں ہے‘خان صاحب ،ہمیں ظالموں سے تحفظ چاہیے، سندھی آپ کا ساتھ دینگے ‘سندھ والے زرداری حکومت سے بیزار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…