جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کے دورہ امریکا کے بعد پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا امکان

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکا اور صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ”مشیر برائے قومی سلامتی“ کی سطح پر بات چیت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق ممکنہ پاک بھارت بات چیت دونوں ممالک کے مشیر برائے قومی سلامتی کی سطح پر ہوسکتی ہے تاہم اگر اس پلیٹ فارم پر یہ بات چیت نہ ہوسکی تو جنوب ایشیائی جوہری ممالک ”بیک چینل ڈپلومیسی“ کا آغاز بھی کرسکتے ہیں جس کا مقصد بھی باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نوازشریف اس ماہ کی 20تاریخ کو اپنے تین روزہ دورہ امریکا کا آغاز کریں گے۔اس دورے میں وہ امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملاقات کریں گے اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ پاک بھارت تعلقات اور بلخصوص دونوں پڑوسی ممالک کے مراسم میں پائی جانے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ذرائع کے مطابق امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کے آغاز میں گہری دلچسپی لے رہا ہے اور اس مقصد کیلئے اس نے سفارتی چینلز کو بھی استعمال کیا ہے۔امریکی حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر سکون ہو اور پاکستان افغانستان سے ملنے والی سرحد پر اپنی توجہ پوری طرح مرکوز رکھ سکے۔تاہم اس کو اس بات کا بھی علم ہے کہ جب تک پاکستان کی مشرقی سرحد پر تناو¿ کی کیفیت ہے وہ اپنی مغربی سرحد پر توجہ پوری طرح قائم نہیں رکھ سکتا۔ذرائع نے بتایا کہ پاک بھارت بیک چینل سفارتکاری شروع ہونے کی صورت میں دونوں ممالک سے سابق سینئر سفارتکار کشیدگی کے خاتمے اور باضابطہ امن بات چیت کی دوبارہ سے شروعات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بات چیت کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے پاکستانی سرزمین میں بھارت کی مداخلت اور یہاں ہونے والی دہشت گردی کی بھارتی معاونت کے ثبوت اقوام متحدہ میں پیش کرنے کے بعد سے بھارتی حکومت دباو¿ کا شکار ہے اور اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ وہ اب مذاکرات کی راہ اختیار کرے گی۔ایک پاکستانی سفارت کار نے رابطہ کرنے پر پاک بھارت بات چیت یا بیک چینل سفارت کاری کے ممکنہ آغاز کے بارے میں تو لاعلمی کا اظہار کیا تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور یہ بھارت ہے جس نے ہمشیہ امن کے عمل سے روگردانی کی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان بات چیت کیلئے تیار ہے مگر بھارت کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ مذاکرات کرنے ہونگے اور بات چیت کے عمل کو دہشت گردی کے ایک ہی نکتے تک محدود کرنے کی کوششوں سے باز آنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…