ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ججزفیصلہ آئین وقانون کے مطابق دیتےہیں،نظرثانی سے فرق نہیں پڑتا،چیف جسٹس

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

ریاست کے تینوں ستوںعدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ کو اپنی حدود کے اند رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے،آئین پاکستان نے عدلیہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں،،آئین میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے،جناب جسٹس عثمانی بطور جج ایسے بینچزمیں بھی شامل رہے ہیں جنہوں نے بہت سے اہم آئینی اور قانونی امور میں قابلِ ذکر فیصلے صادر کیے۔آپ بہت سے اہم آئینی معاملات کا فیصلہ کرنے والے لارجر بینچوں کا حصہ بھی رہے۔ ان میں پی سی او 2007ءکیس (سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان-پی ایل ڈی 2009سپریم کورٹ879)،پی سی او نظرثانی کیس(پرویز مشرف بنام ندیم احمد-پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ585)،توہین عدالت قانون کیس (باز محمد کاکڑ بنام فیڈریشن آف پاکستان – پی ایل ڈی 2012سپریم کورٹ 923) زیادہ نمایاں ہیں۔ یہاں پر میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پی سی او2007ءکے بعد جناب عثمانی صاحب کو ستمبر 2008ءمیں پی سی او کے تحت نامزد کردہ چیف جسٹس کی سفارش پر سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اورآپ 31جولائی 2009ءتک بطور جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے مگر 31جولائی کو آپ نے خود ہی اس فیصلہ کی حمایت کی جس میں یہ کہا گیا کہ پی سی او کے تحت مقرر کردہ چیف جسٹس کی سفارش پر تعینات کیے گئے ججز کی تقرری غیرآئینی ہے۔ اس طرح آپ نے آئین و قانون کی بالادستی کی خاطراپنے عہدے کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ جس کے نتیجے میں آپ کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیااور اس طرح آپ کا سپریم کورٹ میں تقدم مجروح ہوا مگر آپ نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ اس کے علاوہ جناب جسٹس عثمانی صاحب نے بہت سے دیگر گراں قدر فیصلے بھی صادر کیے ہیں۔ اس وقت آپکے تمام فیصلوں کا ذکر کرنا تو ممکن نہیںہے مگر میں یہاں ان چند اہم فیصلوں کا حوالہ دینا ضرروری سمجھتا ہوں جن سے آپ کی قانونی مہارت اور علمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…