پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

ججزفیصلہ آئین وقانون کے مطابق دیتےہیں،نظرثانی سے فرق نہیں پڑتا،چیف جسٹس

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

ریاست کے تینوں ستوںعدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ کو اپنی حدود کے اند رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے،آئین پاکستان نے عدلیہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں،،آئین میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے،جناب جسٹس عثمانی بطور جج ایسے بینچزمیں بھی شامل رہے ہیں جنہوں نے بہت سے اہم آئینی اور قانونی امور میں قابلِ ذکر فیصلے صادر کیے۔آپ بہت سے اہم آئینی معاملات کا فیصلہ کرنے والے لارجر بینچوں کا حصہ بھی رہے۔ ان میں پی سی او 2007ءکیس (سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان-پی ایل ڈی 2009سپریم کورٹ879)،پی سی او نظرثانی کیس(پرویز مشرف بنام ندیم احمد-پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ585)،توہین عدالت قانون کیس (باز محمد کاکڑ بنام فیڈریشن آف پاکستان – پی ایل ڈی 2012سپریم کورٹ 923) زیادہ نمایاں ہیں۔ یہاں پر میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پی سی او2007ءکے بعد جناب عثمانی صاحب کو ستمبر 2008ءمیں پی سی او کے تحت نامزد کردہ چیف جسٹس کی سفارش پر سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اورآپ 31جولائی 2009ءتک بطور جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے مگر 31جولائی کو آپ نے خود ہی اس فیصلہ کی حمایت کی جس میں یہ کہا گیا کہ پی سی او کے تحت مقرر کردہ چیف جسٹس کی سفارش پر تعینات کیے گئے ججز کی تقرری غیرآئینی ہے۔ اس طرح آپ نے آئین و قانون کی بالادستی کی خاطراپنے عہدے کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ جس کے نتیجے میں آپ کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیااور اس طرح آپ کا سپریم کورٹ میں تقدم مجروح ہوا مگر آپ نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ اس کے علاوہ جناب جسٹس عثمانی صاحب نے بہت سے دیگر گراں قدر فیصلے بھی صادر کیے ہیں۔ اس وقت آپکے تمام فیصلوں کا ذکر کرنا تو ممکن نہیںہے مگر میں یہاں ان چند اہم فیصلوں کا حوالہ دینا ضرروری سمجھتا ہوں جن سے آپ کی قانونی مہارت اور علمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…