ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

این اے144اوکاڑہ ،آگئی وہ پہلی خبر جس کا انتظارتھا،غیرحتمی/غیرسرکاری نتائج جاری،بڑے برج الٹ گئے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

اوکاڑہ کینٹ( این این آئی) ضمنی الیکشن این اے 144اوکاڑہ میں آزاد امیدوار چوہدری ریاض الحق (جج) 83240 ہزارووٹ حاصل کر کے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگے،کارکنو ں کا جشن، مدمقابل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر علی عارف چوہدری 41050ہزارووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ،انجمن مرزاعین پنجاب کے جنرل سیکرٹری آزاد امیدوار مہر عبد الستار 11420ہزارووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارسابق صوبائی وزیر محمد اشرف خاں سوہنا 7180ہزارووٹ حاصل کر کے چوتھے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سابق ایم این اے چوہدری سجادالحسن 3700ووٹ لے کر پانچوں نمبر پر رہے، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق کامیاب ہو نے والے چوہدری ریاض الحق (جج) مسلم لیگ (ن) کے راہنما اورمسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنما حمزہ شہباز کے قریبی ساتھی ہیں لیکن مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے چوہدری ریاض الحق (جج) کو ٹکٹ نہ دیاجس پر انہوں نے آزاد طور پر ضمنی الیکشن میں حصہ لیا ،این اے 144اوکاڑہ کی سیٹ مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم این اے چوہدری محمد عارف کی جعلی ڈگری میں نااہلی کے بعد ان کے بیٹے علی عارف چوہدری کو پارٹی ٹکٹ دیا تھا، علی عارف چوہدری کی کیمپن صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب میاں یاور زمان اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری میاں محمد منیر سمیت ضلع بھر کے ارکان اسمبلی کر رہے تھے دوسری طرف چوہدری ریاض الحق (جج) کو پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی پی پی 189اوکاڑہ چوہدری مسعود شفقت ربیرہ کی حمایت حاصل تھی ،آزاد امیدوار چوہدری ریاض الحق (جج) کی سپورٹ کر نے پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے چوہدری مسعود شفقت ربیرہ کو 24گھنٹے کا شوکاز نوٹس بھی دیا تھا لیکن اس کے باوجود چوہدری مسعود شفقت ربیرہ نے چوہدری ریاض الحق (جج) کی حمایت جاری رکھی اور ضمنی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ چوہدری ریاض الحق (جج)کامیابی پر کارکنوں نے جشن منایا اور بھگڑے ڈالے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…