جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

قرار دادوں پر عمل نہ کر نے والے ممالک کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دینا انہیں خلاف ورزی کا انعام دینے کے مترادف ہے ،پاکستان

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

ہونے پر پاکستان میں دیگر تقریبات کے علاوہ فوٹو گرافی کی ایک نمائش بھی منعقد کی جائیگی ۔دنیا کو پاکستان کے کر دار کے بارے میں آگاہ کر نے کا یہ نہایت شاندارموقع ہے ۔انہوںنے بتایا کہ اسلام آباد سے لاہور تک مختلف شہروں میں بارہ سے 22اکتوبر تک تقریبات کا انعقاد کیا جائیگا افتتاحی تقریب بارہ اکتوبر کو اسلام آباد میں لوک ورثہ کے مقام پر ہوگی مجموعی طورپر عالمی ادارہ پاکستان میں پندرہ تقریبا ت منعقد کریگا ۔پاکستانی وزارت خارجہ کی ایڈیشنل سیکرٹری برائے اقوام متحدہ و یورپی یونین تسنیم اسلم نے اقوام متحدہ کے ستر سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے عالمی ادارے کی مختلف کمیٹیوں میں اپنا فعال کر دارادا کیا ہے جبکہ دنیا بھر میں قیام امن مشنز میں بھی پاکستان پیش پیش رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ستر سال کے دور ان جہاں اقوام متحدہ نے انسانی حقوق اور قیام امن سمیت متعدد شعبوں میں اپنا مثبت کر دارادا کیا ہے اور تنازعات کے حل کےلئے سرگرم رہا ہے تاہم کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل میں اسے ناکامی سامنا کر نا پڑا ہے ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ شملہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے باہمی طورپر حل کر نے کی ایک کوشش تھا اور اس حوالے سے ہم اپنی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔انہوںنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کی نشستیں بڑھانے کے حوالے سے پاکستانی موقف کا اعاد ہ کرتے ہوئے اس مجوزہ اقدام کی ایک بار پھرمخالفت کی انہوںنے کہاکہ سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھانے سے بعض ارکان کو استحقاق حاصل ہو جائیگا اس سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔سلامتی کونسل کےلئے بعض ارکان کو طویل مدت کےلئے انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کر نے سمیت مختلف فارمولے زیر غور ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگراقوام متحدہ کسی مسئلے کے حل میں ناکام ہوا ہے تو یہ پاکستان کی ناکامی نہیں اس موقع پر اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر انفارمیشن سنٹر وٹوریو کیما روٹا نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یو این 193ممالک کا نمائندہ ادارہ ہے اور تمام ارکان کو مساوی مواقع حاصل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…