جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

منیٰ حادثے میں پاسداران انقلاب کے 6 عہدیدار ملوث ہیں،منحرف سابق ایرانی سفارت کار

datetime 4  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایران کے ایک منحرف سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حج کے دوران منٰی کے مقام پر حجاج کرام میں بھگدڑ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے چھ اہم افسروں کی کارستانی ہے۔ سابق ایرانی سفارت کار نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب منیٰ حادثے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سخت تناﺅ پایا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھگدڑ حادثے میں سعودی عرب کی حکومت کو براہ راست قصوروار قرار دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے منحرف سفارت کار “فرزاد فرہنکیان” نے عربی بلاگ میں کہا ہے کہ “میں نے حج کے مناسک شروع ہونے سے قبل خبردار کیا تھا کہ خامنہ ای رجیم حج کے موقع پر دہشت گردی کی سازش کر سکتی ہے۔ میں نے جس دہشت گردی اور ان کے اسباب کی نشاندہی کی تھی۔ وہ ایسے ہی وقوع پذیر ہوئی۔خیال رہے کہ سابق سفارت کار فرہنکیان ایرانی وزارت خارجہ میں ایڈوائزر کے عہدے سے ترقی پاتے ہوئے دبئی، بغداد، مراکش اور یمن میں ایران کے نمائندہ سفارت خانوں میں بطور سفارت کا خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ بیلجیئم میں ایرانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔فرہنکیان کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایک منظم اور طے شدہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے اور اس سازش میں ایرانی حکومت براہ راست ملوث ہے کیونکہ یرانی حجاج کرام میں پاسداران انقلاب کے پانچ ہزار اہلکار شریک تھے۔ ان کا منصوبہ حج کے موقع پر بڑے پیمانے پر نظمی پھیلانا حجاج کا غیر معمولی جانی نقصان کرنا تھا تاہم سعودی عرب کی بر وقت اور تیز ترین خدمات نے سازش ناکام بنا دی۔ایران کے منحرف سفارت کار نے اپنے بلاگ میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ منیٰ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کی سازش ہے بلکہ ان چھ اہم فوجی افسروں کے نام اور تفصیلات بھی جاری کی ہیں جو مبینہ طور پر اس سازش کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ عادل السید جواد موسیٰ [باسیج ملیشیا کے عاشورائ بریگیڈ کے سربراہ]
2۔ عبدالباری مصطفیٰ بختی۔ شمالی تہران میں قصر سعد آباد کی جامعہ الامام میں قائم ٹریننگ سینٹر کے سربراہ۔
3۔ مصطفیٰ نعیم عبدالباری رضوی
4۔ محمد سید عبداللہ محمد باقر
5۔ سالم صباح عاشور
6 کاظم عبدالزاھراءخرد مندان
فرہنکیان کا کہنا ہے کہ متذکرہ تمام افسران پاسداران انقلاب کی یونٹ 400 کے سینئر افسر ہیں۔ یہ ایک اسپیشل یونٹ ہے جو مرشد اعلیٰ کے دفتر کی براہ راست نگرانی اور بیرون ملک سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کرتی ہے۔مبصرین کے خیال میں منیٰ میں حادثے کے مقام پر ایرانی فوجیوں ، سیاسی اور عسکری قائدین کی موجودگی نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر حجاج کی صفوں میں شامل ہونے والے سابق سفارت کار غضنفر رکن آبادی جو اپنے اصلی نام کے بجائے فرضی نام سے حجاج میں شامل ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…