بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

منیٰ حادثے میں پاسداران انقلاب کے 6 عہدیدار ملوث ہیں،منحرف سابق ایرانی سفارت کار

datetime 4  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایران کے ایک منحرف سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حج کے دوران منٰی کے مقام پر حجاج کرام میں بھگدڑ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے چھ اہم افسروں کی کارستانی ہے۔ سابق ایرانی سفارت کار نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب منیٰ حادثے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سخت تناﺅ پایا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھگدڑ حادثے میں سعودی عرب کی حکومت کو براہ راست قصوروار قرار دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے منحرف سفارت کار “فرزاد فرہنکیان” نے عربی بلاگ میں کہا ہے کہ “میں نے حج کے مناسک شروع ہونے سے قبل خبردار کیا تھا کہ خامنہ ای رجیم حج کے موقع پر دہشت گردی کی سازش کر سکتی ہے۔ میں نے جس دہشت گردی اور ان کے اسباب کی نشاندہی کی تھی۔ وہ ایسے ہی وقوع پذیر ہوئی۔خیال رہے کہ سابق سفارت کار فرہنکیان ایرانی وزارت خارجہ میں ایڈوائزر کے عہدے سے ترقی پاتے ہوئے دبئی، بغداد، مراکش اور یمن میں ایران کے نمائندہ سفارت خانوں میں بطور سفارت کا خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ بیلجیئم میں ایرانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔فرہنکیان کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایک منظم اور طے شدہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے اور اس سازش میں ایرانی حکومت براہ راست ملوث ہے کیونکہ یرانی حجاج کرام میں پاسداران انقلاب کے پانچ ہزار اہلکار شریک تھے۔ ان کا منصوبہ حج کے موقع پر بڑے پیمانے پر نظمی پھیلانا حجاج کا غیر معمولی جانی نقصان کرنا تھا تاہم سعودی عرب کی بر وقت اور تیز ترین خدمات نے سازش ناکام بنا دی۔ایران کے منحرف سفارت کار نے اپنے بلاگ میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ منیٰ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کی سازش ہے بلکہ ان چھ اہم فوجی افسروں کے نام اور تفصیلات بھی جاری کی ہیں جو مبینہ طور پر اس سازش کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ عادل السید جواد موسیٰ [باسیج ملیشیا کے عاشورائ بریگیڈ کے سربراہ]
2۔ عبدالباری مصطفیٰ بختی۔ شمالی تہران میں قصر سعد آباد کی جامعہ الامام میں قائم ٹریننگ سینٹر کے سربراہ۔
3۔ مصطفیٰ نعیم عبدالباری رضوی
4۔ محمد سید عبداللہ محمد باقر
5۔ سالم صباح عاشور
6 کاظم عبدالزاھراءخرد مندان
فرہنکیان کا کہنا ہے کہ متذکرہ تمام افسران پاسداران انقلاب کی یونٹ 400 کے سینئر افسر ہیں۔ یہ ایک اسپیشل یونٹ ہے جو مرشد اعلیٰ کے دفتر کی براہ راست نگرانی اور بیرون ملک سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کرتی ہے۔مبصرین کے خیال میں منیٰ میں حادثے کے مقام پر ایرانی فوجیوں ، سیاسی اور عسکری قائدین کی موجودگی نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر حجاج کی صفوں میں شامل ہونے والے سابق سفارت کار غضنفر رکن آبادی جو اپنے اصلی نام کے بجائے فرضی نام سے حجاج میں شامل ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…