جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پی آئی پی آئی اےاور اور پالپا کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا،اندرون و بیرون ملک جانیوالی51 پروازیں منسوخ

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(آن لائن) پی آئی اے اور پائلٹس ایسوسی ایشن کی تنظیم پالپا کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد مسلسل تیسرے روز پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہے اور اب تک اندرون و بیرون ملک جانے والی 51 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے اور پالپا کے درمیان 16 گھنٹے سے زائد پرواز کرنے پر پائلٹوں کے لائسنس کی منسوخی کے معاملے پر شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کے مختلف ایئر پورٹس سے اندرون و بیرون ملک جانے والی 51 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس کے باعث 5 ہزار سے زائد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب تک کراچی سے 21، راولپنڈی سے 12 اور لاہور میں 10 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے،حکومت نے پی آئی اے اور پالپا حکام کا اجلاس بلایا تھا تاہم ہمیں اس اجلاس میں شرکت کے لئے کوئی دعوت نامہ نہیں دیا گیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف چینلز پر اس قسم کی خبریں چل رہی ہیں کہ پالپا کو مذاکرات کے لئے بلایا گیا لیکن انھوں نے مذکرات سے انکار کردیا، اس قسم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اگر مجھے بلایا جاتا تو جس طرح پہلے اجلاسوں میں شرکت کی آج کے اجلاس میں بھی شرکت کرتا۔ صدر پالپا نے مزید بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہماری تنظیم نے سول ایوی ایشن کی اینٹی ڈمپنگ پالیسی کی مخالفت کر رکھی ہے جو کہ چیئرمین کا کام تھا، چونکہ ڈی جی سول ایوی ایشن شجاعت عظیم کا کاروبار ہے اور وہ غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اس لئے پی آئی اے کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ شجاعت عظیم کو سول ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ ایم ڈی پی آئی کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ شجاعت عظیم کو جو بات ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کہہ دیتے ہیں یہ وہی میڈیا میں آکر کہہ دیتے ہیں، دوسری جانب ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کا ذاتی مفاد بھی ہے کہ وہ 60 سال کے بعد بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ پہلے بھی جو مذاکرات ہوئے، اس کے بعد جو معاہدہ ہوا اسے رد کر دیا گیا، ہمیں مسافروں کی پریشانی کا بھی احساس ہے اور اس پر ان سے معافی چاہتے ہیں لیکن حکومت معاملے کو سلجھانہ ہی نہیں چاہتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…