جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا آرمی چیف کی مدت 4 سال کرنے پر غور ؛ تجاویز فوجی قیادت کو ارسال

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں رسمی طور پر ایک سال کااضافہ کرتے ہوئے اسے3 سال سے 4 سال کرنے کی تجویزکے بارے میں حال ہی میں سرگرمی سے غوروخوص کیاہے اوراس سلسلے میں بلاواسطہ تجاویزمتعلقہ دفاترکو بھجوائی گئی ہیں۔وزیراعظم نوازشریف کے آفس کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہاکہ یہ تجویزغیررسمی طور پر اعلیٰ فوجی حکام کے سامنے رکھی گئی تھی جس پر موجودہ فوجی قیادت نے مشورہ دیاکہ حکومت اس تجویز پرعملدرآمد نومبر2016 میں آنیوالے نئے آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھا کرکرے۔ذرائع نے دعویٰ کیاکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وفاقی حکومت کوموثر انداز میں آگاہ کر دیاہے کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں چاہتے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کولیکرمیڈیا میں کئی افواہیں زیرگردش ہیں۔ آرمی چیف کی ملازمت میںتوسیع کی روایت جنرل پرویزمشرف نے ڈالی تھی جنھوں نے خودکو 2001سے2008تک توسیع دی۔جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت میں بھی توسیع کی گئی۔یہ معاملہ عوامی بحث کا بھی حصہ رہا ہے جبکہ معاشرے کے کئی حصوں نے اس تجویزکی حمایت بھی کی ہے تاہم دفاعی ماہرین کو یقین ہے کہ جنرل راحیل شریف ملک کودرپیش مسائل پرتوجہ مرکوز کیے ہوئے ایک تاریخی مثال قائم کررہے ہیں اور بظاہر وہ ایسی کوئی مثال قائم کرنے میں دلچسپی رکھنا پسندنہیں کرینگے جسے اداروں کی مضبوطی کیلئے غیرصحتمندانہ قراردیا جائے۔جنرل راحیل کودہشت گردوں کیخلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے اور سول حکومت کیساتھ بہترین تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے عوامی حلقوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کراچی میں آپریشن اور امن کی بحالی کاکریڈٹ بھی انھیں ہی دیاجاتا ہے۔انھوں نے فوج کے اندرخوداحتسابی کا نظام قائم کیا اور وہ اپنے پیشروو¿ں کیلئے اعلیٰ روایات چھوڑکرجائیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…