جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

افغانستان نے پشاورحملہ کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کا الزام مسترد کردیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2015 |

کابل(نیوزڈیسک)افغانستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ پشاور میں پاک فضائیہ کے اڈے پر ہونیوالے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور اسے کنٹرول بھی یہاں سے کیا جا رہا تھا ۔سی این این کے مطابق افغان صدر کی جانب سے ٹوئٹر پر دیئے گئے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان خود دہشت گردی کا شکا ر ہے اور ہم اس کے شکار لوگوں کے دکھ اور درد کو سمجھتے ہیں اور پشاور حملے کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ دریں اثناءافغان صدر کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بے بنیاد الزمات کو مسترد کرتے ہیں کہ پشاور میں حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان میں تھا ۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس نے دہشتگردوں کیخلاف سخت کارروائی کا عزم کر رکھا ہے کیونکہ دہشتگردی خطے میں امن اور استحکام کیلئے خطرہ ہے ۔ افغان صدر کے ترجمان نے ایسے وقت میں یہ بات کہی ہے کہ جبکہ پاکستان کے عسکری ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران یہ انکشافات کئے تھے اور کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام تر ثبوت افغان حکومت کو دیئے جائیں گے ۔ پاکستان کی طرف سے ثبوت دیئے جانے سے قبل ہی افغان صدارتی نائب ترجمان کا یہ رد عمل سامنے آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…