جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پی اے ایف کیمپ حملہ‘ گاڑی کا مالک زیر حراست

datetime 19  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے بڈھ بیر کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔قومی اخبار کے مطابق پی اے ایف بڈھ بیر کیمپ پر حملے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) میں درج کروایا گیا۔سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا۔انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں 7ATA سمیت قتل ،اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔مقدمہ کیمپ کے کمانڈنٹ فلائٹ لیفٹینٹ حسین محمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔استعمال ہونے والی گاڑی کا مالک گرفتاربڈھ بیر میں ایئر فورس کے کیمپ میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والی گاڑی کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔پولیس اورحساس اداروں نے سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع شہر صادق آباد کے علاقے ماڈل ٹاو¿ن میں کارروائی کرکے گاڑی کے مالک آصف سمیت 2 افراد کو حراست میں لیا۔زیر حراست دوسرا شخص آصف کا بہنوئی اکمل بتایا جاتا ہے۔قومی اخبارذرائع کےمطابق آصف نے گاڑی 2 سال قبل اپنے بہنوئی اکمل کو فروخت کر دی تھی جس کو بعد ازاں اکمل کو نے بھی سندھ کے شہر کموں شہید کے رہائشی کو فروخت کر دیا تھا۔حملے کی تحقیقات تیزی سے جاریبڈھ بیر میں پی اے ایف کے کیمپ پر حملے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔مختلف تحقیقاتی اداروں کے حکام اور اہلکاروں نے جائے وقوع سے شواہد اکھٹے کیے۔علاوہ ازیں بڈھ بیر سمیت ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 28 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، حراست میں لیے گئے افراد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جبکہ 8 افغان باشندے بھی زیر حراست ہیں۔ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد سے حملے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔پولیس نے بعض افراد سے اسلحہ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔حملے کے بعد پشاور کے باچا خان ائر پورٹ سمیت تمام ائر بیسز اور شہر کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے قریب واقع علاقے بڈھ بیر میں پاکستان ایئر فورس کے کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں فوجی افسران سمیت 29 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔حملہ آور گاڑی کے ذریعہ کیمپ تک آئے تھے، جس کے بعد انہوں نے مسجد میں موجود افراد کو نشانہ بنایا جبکہ رہائشی آبادی کی جانب بڑھنے کی کوشش کی مگر گارڈ روم میں موجود اہلکاروں نے ان کا آگے بڑنے کا موقع نہیں دیا۔یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف حملے کے بعد بڈھ بیر گئے تھے اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی بھی عیادت کی تھی.گزشتہ شب پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) مجر جنرل عاصم باجوہ نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہ حملہ تحریک طالبان پاکستان کے کسی اسپلنٹر گروپ نے کیا تھا جبکہ دہشت گردوں کی آپس میں بات چیت سے لگتا ہے کہ وہ افغانستان سے آئے اور وہیں منصوبہ بندی کی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…