پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغان امن مذاکرات: ’پاکستان میزبانی کا خواہشمند‘

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر کابل چاہتا ہے تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے نئے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔سینیٹ میں خارجہ پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ ’اگر افغانستان چاہتا ہے کہ ہم سہولت فراہم کریں تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پاکستان صرف سہولت فراہم کرسکتا ہے، تاہم افغان حکومت کو پہل کرنا ہوگی۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کابل میں ہونے والی ریجنل اکنامک کانفرنس کے موقع پر انھوں نے افغان رہنماو¿ں کو پیش کش کی تھی کہ طالبان رہنما ملا عمر کی موت کے انکشاف کے بعد ملتوی ہوجانے والے امن مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل کے پہلے مرحلے کی میزبانی رواں برس 7 جولائی کو کی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے دوسرے مرحلے کی میزبانی 31 جولائی کو کی جانی تھی تاہم ملا عمر کی موت کی خبریں نشر ہونے کے بعد طالبان نے مذاکراتی عمل کو ملتوی کردیا تھا۔یاد رہے کہ اس کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیوں میں تیزی آگئی جبکہ تنظیم اندرونی طور پر سربراہی کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوگئی۔تاہم اب چونکہ تنظیم کی سربراہی کے حوالے سے موجود اختلافات ختم ہوچکے ہیں، لہذا اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان امن مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امن مذاکراتی عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے افغان حکومت کے جواب کا منتظر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ان سے ملاقات میں افغان صدر اشرف غنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں اور ملک کی سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد پاکستان کی پیش کش کا جواب دیں گے۔سرتاج عزیز نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے کابل اختلافات کا شکار ہے، انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’کچھ لوگ مذاکراتی عمل کی حمایت اور کچھ مخالفت کررہے ہیں۔‘قومی سلامی کے مشیر نے کہا کہ افغان حکومت مذاکراتی عمل کی حامی نظر آتی ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس میں پاکستانی کردار پر اختلاف رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر جارریٹ بلانک نے رواں ہفتے کے آغاز پر اسلام آباد اور کابل کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ کیا وہ مذاکرات کے لیے واپس ا?نا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ دیگر فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…