اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر کابل چاہتا ہے تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے نئے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔سینیٹ میں خارجہ پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ ’اگر افغانستان چاہتا ہے کہ ہم سہولت فراہم کریں تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پاکستان صرف سہولت فراہم کرسکتا ہے، تاہم افغان حکومت کو پہل کرنا ہوگی۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کابل میں ہونے والی ریجنل اکنامک کانفرنس کے موقع پر انھوں نے افغان رہنماو¿ں کو پیش کش کی تھی کہ طالبان رہنما ملا عمر کی موت کے انکشاف کے بعد ملتوی ہوجانے والے امن مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل کے پہلے مرحلے کی میزبانی رواں برس 7 جولائی کو کی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے دوسرے مرحلے کی میزبانی 31 جولائی کو کی جانی تھی تاہم ملا عمر کی موت کی خبریں نشر ہونے کے بعد طالبان نے مذاکراتی عمل کو ملتوی کردیا تھا۔یاد رہے کہ اس کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیوں میں تیزی آگئی جبکہ تنظیم اندرونی طور پر سربراہی کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوگئی۔تاہم اب چونکہ تنظیم کی سربراہی کے حوالے سے موجود اختلافات ختم ہوچکے ہیں، لہذا اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان امن مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امن مذاکراتی عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے افغان حکومت کے جواب کا منتظر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ان سے ملاقات میں افغان صدر اشرف غنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں اور ملک کی سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد پاکستان کی پیش کش کا جواب دیں گے۔سرتاج عزیز نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے کابل اختلافات کا شکار ہے، انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’کچھ لوگ مذاکراتی عمل کی حمایت اور کچھ مخالفت کررہے ہیں۔‘قومی سلامی کے مشیر نے کہا کہ افغان حکومت مذاکراتی عمل کی حامی نظر آتی ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس میں پاکستانی کردار پر اختلاف رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر جارریٹ بلانک نے رواں ہفتے کے آغاز پر اسلام آباد اور کابل کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ کیا وہ مذاکرات کے لیے واپس ا?نا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ دیگر فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
افغان امن مذاکرات: ’پاکستان میزبانی کا خواہشمند‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کےلئے پیر تا جمعہ نئے اوقات کار مقرر
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
بارشوں کا نیا اسپیل 27 اگست سے آنےکو تیار ، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا
-
ہونڈا کی ایکسچینج سہولت، پرانی سی ڈی 70 دے کر نئی موٹر سائیکل حاصل کرنے کا موقع
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
کھانا بنانے کا تنازع، بیوی کے فرائنگ پین سے حملے میں شوہر جاں بحق
-
حنا جاوید قتل کیس،قاتل شوہر کو جج نہ کرنے کی فرضی مثال، ملزم کا پرانا لیکچر وائرل
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
پمزہسپتال آتشزدگی واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟حامد میر نے نام لی...
-
ملک بھر میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں کمی ریکارڈ
-
ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب ؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
حنا جاوید کے شوہر کا قتل کے الزام سے انکار، گھریلو ملازم نے اعتراف جرم کرلیا



















































