بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے از خود نوٹس اختیارمیں کمی،اہم قرارداد سینٹ سے متفقہ طور پر منظور

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیف جسٹس کے از خود نوٹس پر فیصلوں پر نظر ثانی کا حق دینے کی قرارداد سینٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور قرارداد کے محرک پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ قراردادمیں حکومت پر ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ ازخود نوٹس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لئے مناسب قانون سازی کرے۔فرحت اللہ بابر نے پیر کو کارروائی کے دوران قرارداد پیش کی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر دئیے ہوئے فیصلوں پر نظرثانی کا حق ہونا چاہیے یہ قرارداد سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔ جب یہ قرارداد سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی نے ایوان کے سامنے پیش کی تو اس پر حکومتی بینچ کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں آیا اور اس طرح یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس میں حکومت پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ ازخود نوٹس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لئے مناسب قانون سازی کرے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ازخود نوٹس سے عوام کو ریلیف ملا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے عدلیہ کو وسیع اختیار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کے ہاتھ میں اس قدر اختیارات دے دئیے جائیں تو ان اختےارات کو قانون کے تحت ہونا چاہیے ورنہ اس کے بے تہاشہ استعمال کے مضمرات بھی ہوتے ہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے یاددلایا کہ دو سال قبل سینیٹر کریم خواجہ نے سوال پوچھا تھا کہ ہائی کورٹ نے 2009 سے جتنے ازخود نوٹس لئے ہیں ۔ اس کے جواب میں ہائی کورٹوں نے تفصیل دینے سے انکار کر دیا اور صرف سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ 2009 سے اب تک کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا گیا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے سوالوں سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل دو شراب کی بوتلوں پر ازخود نوٹس لیا گیا تھا۔

مزید پڑھئے:” جال “بچھانے کی تیاریاں

ایک اور کیس میں صدر، وزیراعظم، آئی ایس آئی کے ڈی جی، سابق سفیر حسین حقانی کو نوٹس جاری کئے گئے تھے جس کی بنیاد ایک ایسا خط تھا جو ایک پاکستانی نژاد کینیڈا کے شہری نے لکھا تھا اور اس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ یہ کیس میموگیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کیس کے بعد قانونی حلقوں میں بہت سے سوالات اٹھے تھے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…