ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے از خود نوٹس اختیارمیں کمی،اہم قرارداد سینٹ سے متفقہ طور پر منظور

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیف جسٹس کے از خود نوٹس پر فیصلوں پر نظر ثانی کا حق دینے کی قرارداد سینٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور قرارداد کے محرک پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ قراردادمیں حکومت پر ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ ازخود نوٹس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لئے مناسب قانون سازی کرے۔فرحت اللہ بابر نے پیر کو کارروائی کے دوران قرارداد پیش کی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر دئیے ہوئے فیصلوں پر نظرثانی کا حق ہونا چاہیے یہ قرارداد سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔ جب یہ قرارداد سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی نے ایوان کے سامنے پیش کی تو اس پر حکومتی بینچ کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں آیا اور اس طرح یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس میں حکومت پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ ازخود نوٹس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لئے مناسب قانون سازی کرے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ازخود نوٹس سے عوام کو ریلیف ملا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے عدلیہ کو وسیع اختیار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کے ہاتھ میں اس قدر اختیارات دے دئیے جائیں تو ان اختےارات کو قانون کے تحت ہونا چاہیے ورنہ اس کے بے تہاشہ استعمال کے مضمرات بھی ہوتے ہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے یاددلایا کہ دو سال قبل سینیٹر کریم خواجہ نے سوال پوچھا تھا کہ ہائی کورٹ نے 2009 سے جتنے ازخود نوٹس لئے ہیں ۔ اس کے جواب میں ہائی کورٹوں نے تفصیل دینے سے انکار کر دیا اور صرف سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ 2009 سے اب تک کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا گیا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے سوالوں سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل دو شراب کی بوتلوں پر ازخود نوٹس لیا گیا تھا۔

مزید پڑھئے:” جال “بچھانے کی تیاریاں

ایک اور کیس میں صدر، وزیراعظم، آئی ایس آئی کے ڈی جی، سابق سفیر حسین حقانی کو نوٹس جاری کئے گئے تھے جس کی بنیاد ایک ایسا خط تھا جو ایک پاکستانی نژاد کینیڈا کے شہری نے لکھا تھا اور اس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ یہ کیس میموگیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کیس کے بعد قانونی حلقوں میں بہت سے سوالات اٹھے تھے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…