جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ملک بھرمیں بارشوں کاسلسلہ جاری،سیلاب کاخدشہ

datetime 23  جولائی  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)صوبہ خیبر پختونخواکے شہر چترال , گلگت بلتستان , پنجاب,سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا, چترال 
راجن پور سمیت کئی علاقوںمیں بیسیوں بستیاں زیر آ ب , کچے مکانات پانی میں بہہ گئے . ڈیرہ غازی خان کے فلڈ بند میں پڑنے والا شگاف مزید چوڑا ہو نے سے ہزارروں افراد پانی میں پھنس گئے ,دریائے سندھ میں سکھر بیراج سے بڑا سیلابی ریلا گزرنے کا امکان ہے .نوشہرہ کے قریب دریائے کابل میں پانی کی سطح کم ہوگئی .چترال میں رابطہ سڑکیں بحال نہ ہوسکیں . اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی . پاک فوج کے جوانوں نے امدادی کام تیز کر دیئے جبکہ ڈی جی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا
چترال .گلگت بلتستان . پنجاب .سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں جمعرات کو بھی بارش کا سلسلہ جاری رہااطلاعات کے مطابق راجن پور میں کوہ سلیمان سے آنے والا 21سو کیوسک کاسیلابی ریلا قطب سیفن نہر سے گزررہا ہے پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے جس سے ملحقہ آبادیاں اور کھیت زیر آب آسکتے ہیں .دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے راجن پور میں کچے کی 55 بستیاں زیر آب آنے سے کچے مکانات بہہ گئے ہیں اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیںڈیرہ غازی خان میں جکڑ امام شاہ فلڈ بند میں پڑنے والا 100 فٹ چوڑا شگاف مزید بڑا ہو گیا پانی آبادی میں داخل ہونے سے تقریبا ً 6 ہزار افراد محصور ہوگئے متاثرہ علاقے میں پاک فوج اورریسکیو کی امدادی کاروائیاں تیز کر دی گئیں 60 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا ہے ۔لیہ میں بکھری احمد خان کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب سے 382 بستیاں زیرآب آچکی ہیںڈی سی او رانا گلزار کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زائد افرادسیلابی پانی میں گھرگئے اور 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آچکی ہیں دریائے سندھ میں سکھر بیراج سے بڑا سیلابی ریلا گزرنے کا امکان ہے،بیراج کے 53دروازے کھول دئیے گئے سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 86 ہزار 608 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 888 کیوسک ہے۔ادھر اطلاعات کے مطابق ضلع چترال میں دریائے چترال اور دریائے تورکوہ سمیت تمام 13 چھوٹے بڑے دریاﺅں میں طغیانی ہے ایون میں گول ندی کا پانی مقامی بجلی گھر میں داخل ہوگیا،سیلاب میں بہہ جانے والے رابطہ پلوں کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔ رپورٹ کے مطابق چترال میں بپھرے ہوئے دریا اب تک معمول پر نہیں آئے رابطہ پلوں کے بہنے سے ہزاروں افراد کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کا سامنا گلگت بلتستان میں حالیہ بارش کے بعد دریاﺅں میں سیلابی صورت حال ہے ¾ رات گئے ایون میں گول ندی کا پانی مقامی بجلی گھر میں داخل ہوگیا جس سے ایک میگاواٹ کے بجلی گھر کو نقصان پہنچا ۔10 یونین کونسلوں پر مشتمل سب ڈویڑن مستوج کا زمینی رابطہ بھی چترال سے منقطع ہے ۔ سیلاب میں بہہ جانے والے رابطہ پلوں کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع نہ ہوسکا ہے ۔ادھر گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بھی حالیہ بارشوں کے بعد دریابپھرگئے ۔ استور میں آٹھویں روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا بونجی کے مقام پر کائی نالے میں پل بہہ جانے کے باعث گاﺅں کا رابطہ منقطع ہوگیاسیلابی ریلہ پانی کی پائپ لائنیں بھی بہا لے گیا ہے ¾آلو ، مکئی گندم اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ڈی جی محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہو رہا ہے ¾ کراچی اور حیدر آباد میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے اگر یہ پانی اکٹھا ہو گیا تو دونوں شہروں کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ صوبہ سندھ میں بارشوں کا بڑا سسٹم داخل ہو رہا ہے، صوبہ سندھ کے اگلے 4 سے 5 روز میں بارشیں ہوں گی، سندھ اور پنجاب سے ملحقہ بلوچستان کے علااقوں میں بھی بارشیں ہوں گی۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا حالیہ سسٹم 3 روز پہلے بھارت سے بلوچستان میں داخل ہوا جب کہ تیز بارشوں کا دوسرا سسٹم جزوی طور پر بحیرہ عرب میں داخل ہو رہا ہے جو اس وقت کراچی کے قریب موجود ہے، یہ سسٹم نچلے بادلوں کے ساتھ مل کر درمیانی بارش دے سکتا ہے اور اسی کے تحت بدین اور ٹھٹہ میں بھی بارشیں ہو سکتی ہیں



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…