دوشنبے(نیوزڈیسک)پاکستان کی تاجکستان کو بڑی پیشکش،پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی دعوت دیدی، پاکستان اور تاجکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کےلئے ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق اور توانائی و انفراسٹرکچر پر مشترکہ کمیشن کا اجلاس سال میں دو بار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے ، وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہماری ترجیح ہیں ، تاجکستان خطے میں گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستانی بندر گاہیں علاقائی تجارت کو فروغ دے سکتی ہیں ، تاجکستان کے ساتھ معیشت ، تجارت ، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں ۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مذہبی اور ثقافتی رشتے سے جڑے ہیں ، پاکستان تاجکستان کو تسلیم کرنے والے پہلے ملکوں میں سے ایک ہے ۔ 1990ءسے اب تک دونوں ملکوں میں 40 معاہدے ہوچکے ہیں ۔ تاجکستان گوادر اور کراچی کی بندر گاہوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔ منگل کو دوشنبے میں تاجکستان اور پاکستان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے موثر کردار اور فضائی روابط بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پاکستان کی طرف سے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اکتوبر میں بلانے کی تجویز بھی دی گئی ۔ مذاکرات میں توانائی اور انفراسٹرکچر پر مشترکہ کمیشن کو مزید موثر بنانے ، ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں باہمی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی ۔ پاکستان کی طرف سے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کےلئے حمایت پر شکریہ ادا کیا گیا ۔ مذاکرات میں سلامتی کونسل نے اصلاحات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کےلئے ایک دوسرے تعاون پر اتفاق کیا گیا ۔ مذاکرات کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرا دورہ اعلیٰ سطحی باہمی رابطوں کی پالیسی کا تسلسل ہے ، دورہ دونوں ملکوں کے قریبی دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے ، وسعت ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہماری ترجیح ہیں ۔ وسط ایشیاءمیں تاجکستان ہمارا سب سے قریبی ہمسائیہ ہے ۔ تاجکستان جنوب اور وسط ایشیاءکے سنگھم پر واقع ہے ، تاجکستان خطے میں گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو ملانے کا سب سے قریبی راستہ ہے ۔ پاکستسانی بندر گاہیں علاقائی تجارت کو فروغ دے سکتی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان کے ساتھ تعاون کے تمام پہلوﺅں پر بات ہوئی ، دونوں ملکوں میں خطے اور عالمی امور پر بھی بات چیت ہوئی ۔ دونوں ملکوں میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں ۔ معیشت تجارت ، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھنا چاہیے ۔ دفاع ، توانائی اور سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون کے مواقع ہیں ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمن نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت اہمیت کی حامل ہے ۔ تاجکستان کی آزادی کے بعد تعلقات کےلئے باب کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مذہبی اور ثقافتی رشتے سے جڑے ہوئے ہیں ، وزیراعظم کا گزشتہ سال کا دورہ تعلقات میں نیا باب ثابت ہوا ۔ تاجک صدر نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کو تسلیم کرنیوالے پہلے ملکوں میں شامل ہے ۔ 1990 ءسے اب تک دونوں ملکوں میں 40 معاہدے ہوچکے ہیں ۔ تاجکستان گوادر اور کراچی کی بندر گاہیوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
خاتون افسر کو قیدی کیساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر قید کی سزا
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم



















































