منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

این آ ر او کیس میں سپریم کورٹ کے قانونی نکات غیر متعلقہ تھے،جسٹس ثاقب نثار

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

بھارتی آئین کے آرٹیکل 13 کا حوالہ دیا۔ اس میں بنیادی حقوق کا تذکرہ ہے۔ بنیادی حقوق کو محدود کرنے بارے کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔ آئین کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق میں ترمیم نہیں کی جا سکتی بھارتی آئین میں ترمیم کی گئی اور آرٹیکل میں ترمیم کر لی گئی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ 175 آرٹیکل سے ملتا جلتا کوئی آرٹیکل بھارتی آئین میں موجود ہے کیونکہ ہمارے ہاں آئین اور قانون میں فرق بیان کیا گیا ہے۔ خالد انور نے کہا کہ ایسا کوئی آرٹیکل براہ راست موجود نہیں۔ بھارتی آئین میں جوڈیشل اختیارات واضح ہیں دو طرح کے عدالتی اختیارات ہیں ایک ہائی کورٹس کے پاس ہیں انتظامی احکامات کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا بنیادی حقوق کے معاملات ہیں جن میں ایکٹ وغیرہ آجاتے ہیں کیسا ولندا بھارتی نے تیسری قسم بھی پیدا کر دی۔ جو آئین کے بنیادی آئینی ڈھانچے کی بات کی گئی ہے جس میں سپریم کورٹ کو بھارت میں اختیار دیا گیا ہے کہ از خود پیدا کردہ اختیار ہے جو کسی بھی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اگر بنیادی آئینی ڈھانچے کو متاثر کئے بغیر عدالت اپنا کوئی اختیار پیدا کرتی ہے تو اس کو تسلیم کرتا ہوں۔ امریکی قانون کہتا ہے کہ اس ملک میں بادشاہت قائم نہیں ہو سکتی اس لئے چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا۔ امریکی آئین بنانے والوں نے بعض تصورات برطانوی آئین سے لئے ہیں۔ اختیارات کی تقسیم ایک اہم معاملہ ہے۔ عدلیہ انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم بارے باہم احترام ہونا چاہئے۔ 13 آزاد ریاستوں نے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے تصور نے امریکہ کو اس سے ہٹ کر آئین بنانے پر آمادہ کیا کہ کوئی ان کے ملک پر قبضہ نہ کر سکے۔ فیڈرل لاءکا تصور اختیار کیا گیا۔ بھارت نے ترمیم کی پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے اختیار کو تسلیم کیا انتظامیہ مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کیا ہیں؟ اس کا جائزہ لیا گیا۔ عدلیہ قانون بنا یا نافذ نہیں کر سکتی یہ صرف نگرانی کر سکتی ہے۔ اگر عدلیہ کے پاس آئین میں ترمیم کو چیک کرنے کا اختیار ہے تو یہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ جنہیں قانون بنانا ہے تو وہ غلط قانون نہ بنائے۔ عدلیہ خود کو طاقتور بنانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ انہوں نے بھارتی آئین کا آرٹیکل 31 پڑھ کر سنایا۔ ملکی پالیسیوں کو متاثر کرنے والا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ ہمارے ملک نے بھی اس کے اس آرٹیکل کو اپنا رکھا ہے۔ آرٹیکل 19 میں مختلف حقوق دیئے گئے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…