منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کےلئے ”را “ نے الگ سے ڈیسک بنا دیا

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اس وجہ سے وہ بھارت کے رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت نہیں آتی۔ راکے چارٹر کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ را کے موجودہ مقاصد محض ان ممالک کے بارے میں سیاسی ، فوجی ، اقتصادی اور سائنسی پیشرفت پر معلومات اکٹھا کرنے تک محدود نہیں جن کا بھارتی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے بلکہ اب یہ خارجہ پالیسی بنانے اور فعال بھارتی تارکین وطن کی مدد سے بین الاقوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے مقاصد تک پھیلی ہوئی ہے اور اس میں اب بھارت کے قومی مفادات کے تحفظ کےلیے خفیہ آپریشن بھی شامل ہیں۔ اس کے پاس دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے خلاف کارروائی کرنے اور بھارت کےلیے خطرہ بنانے والی دہشتگردی کو بے اثر بنانے کے علاوہ یورپی ممالک سے پاکستان کو فوجی سازو سامان کی فراہمی رکوانے کا نصب العین بھی ہے۔ اس کی تنظیم سازی سی آئی اے کی طرز پر ہوئی ہے اس کے سربراہ کو سیکرٹری ریسرچ کہاجاتا ہے اور کابینہ سیکرٹریٹ میں اسی عہدے کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس کے زیادہ ترپرانے چیف پاکستان یا چین کے امور کے ماہرین تھے۔ وہ امریکا، برطانیہ اور اب اسرائیل میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔اس کے ڈھانچے میں ایک ایڈیشنل سیکرٹری ’خصوصی آپریشنز‘ کا ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ مختلف خطوں سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی معلومات کو دیگر جائنٹ سیکرٹریز دیکھتے ہیں۔ ان خطوں میں ایریا ون ؛ پاکستان ایریاٹو؛چین ایریا تھری؛ مشرق وسطیٰ اور افریقہ جبکہ ایریا فور میں باقی ماندہ ممالک شامل ہیں۔ را کے اہلکا رروایتی نام ’ایجنٹ‘ کے بجائے ’ریسرچ آفیسرز ‘ کہلاتے ہیں۔ ادارے میں قابل ذکر تعداد میں خواتین بھی ہیں اور حال ہی میں اس ادارے نے اپنی بنیادی توجہ پاک چین تعاون کو ناکام بنانے پر مرکوز کی ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…