بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

دو سال کی عمر میں اغوا ہوا پاکستانی بچہ 32 سال بعد ماں باپ کو مل گیا

datetime 16  جولائی  2025 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی برسوں پر محیط تلاش بالآخر رنگ لے آئی، جب ان کا بچپن میں اغوا کیا گیا بیٹا تین دہائیوں بعد دوبارہ ان سے آ ملا۔ یہ جذباتی لمحہ ہر اس شخص کے لیے اُمید کی کرن ہے جو آج بھی اپنے کسی بچھڑے ہوئے پیارے کی راہ تک رہا ہے۔یہ واقعہ 1992 کا ہے، جب دو سالہ محمد صدیق، اسلام آباد کے علاقے بری امام سے لاپتہ ہو گیا تھا۔

کچھ ہی عرصے بعد اسے اغوا کر کے پنجاب کے ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں، جھانوریا، منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا نام بدل کر محمد آصف رکھ دیا گیا۔آصف کے بقول، اسے ایک خاتون نے اغوا کیا تھا، جس کے ساتھ اس کے تین بھائی اور والدہ بھی رہائش پذیر تھے۔ وہ ایک اور بچے کے ساتھ پرورش پاتا رہا، جو اس کے لیے بڑے بھائی جیسا تھا، اور اسی نے اسے سب سے پہلے شک دلایا کہ وہ شاید اپنے اصل خاندان سے نہیں ہے۔وقت کے ساتھ گاؤں کے لوگ بھی محسوس کرنے لگے کہ یہ بچے اپنے کفیلوں سے مشابہت نہیں رکھتے۔ حالات ایسے ہوئے کہ وہ لوگ گاؤں چھوڑ گئے۔ آصف کا کہنا ہے کہ اسے طویل عرصے تک اپنے اغوا ہونے کا علم نہ تھا، لیکن محبت کی کمی اور لوگوں کی باتوں سے اسے شک ہونے لگا۔تقریباً 10 سال کی عمر میں آصف دوبارہ جھانوریا آیا، جہاں ایک ہمدرد وکیل نے اسے پناہ دی، تعلیم دلوائی اور زندگی سنوارنے میں مدد فراہم کی۔ آصف نے تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہ لی مگر ایک ماہر الیکٹریشن بن گیا، 2017 میں شادی کی، اور اپنی محنت سے گھر بھی خریدا۔ تاہم، والدین کی تلاش کی خلش دل میں باقی رہی۔

ایک دن آصف نے سونے کی دکان پر اپنے دل کی بات ایک اجنبی سے کی، جس نے اسے ایک سماجی کارکن، ولی اللہ معروف سے ملوایا۔ معروف گمشدہ افراد کے کیسز پر کام کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے پیاروں تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔ولی اللہ کی مدد سے بالآخر آصف کا رابطہ اس کے اصل والدین سے ہوا، اور 32 برس بعد ایک ایسا لمحہ آیا جس نے دیکھنے والوں کو رُلا دیا۔ والدین، جو تین دہائیاں اپنے بیٹے کی دعاؤں میں گزار چکے تھے، آخرکار اپنے جگر کے ٹکڑے سے دوبارہ ملے۔آصف کے والدین کا کہنا تھا کہ ایک دن بھی ایسا نہ گزرا جب انہوں نے اپنے بچے کو یاد نہ کیا ہو۔ ان کا بیٹا ان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز تھا، اور یہ ملاقات ان کے لیے نئی زندگی کی مانند ہے۔یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے خوشی کا پیغام لایا بلکہ ہزاروں ایسے افراد کے دلوں میں بھی اُمید پیدا کی جو آج بھی اپنے گمشدہ رشتوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ رب کی رحمت اور مسلسل کوششیں، آخرکار معجزہ بن کر سامنے آئیں۔یہ سچ ہے — جب نیت نیک ہو، امید قائم رکھی جائے اور کوششیں جاری رہیں، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…