اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کی
ذمہ دار شاخ قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی کے بارے میں نئی افواہوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ مختلف عرب میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کرنے کے بعد ممکنہ طور پر پھانسی دے دی ہے، تاہم تہران نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔ ڈیلی میل نے اماراتی اخبار دی نیشنل کے حوالے سے لکھا کہ اس معاملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، مگر سوشل میڈیا اور علاقائی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اسماعیل قاآنی کے بارے میں برسوں سے یہ تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ وہ کئی مہلک حملوں میں بال بال بچ نکلنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں “نو زندگیاں رکھنے والا آدمی” بھی کہا جاتا رہا ہے۔ قاسم سلیمانی کی جنوری 2020 میں امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد اسماعیل قاآنی نے قدس فورس کی کمان سنبھالی تھی۔ قدس فورس ایران کی وہ خصوصی عسکری شاخ ہے جو مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروپوں کو منظم کرنے، مسلح کرنے اور رابطہ کاری کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے، جسے عمومی طور پر “محورِ مزاحمت” کہا جاتا ہے۔ ان کے دورِ قیادت میں اس نیٹ ورک کے کئی اہم رہنما مختلف کارروائیوں میں مارے گئے۔
ان میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ شامل ہیں جو لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے، جبکہ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ایک کارروائی کے دوران قتل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض افواہوں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ہنیہ کے قتل کے لیے معلومات فراہم کرنے میں قاآنی کا کردار ہو سکتا ہے، کیونکہ مبینہ طور پر وہ اس خفیہ مقام پر ہنیہ سے ملاقات کے فوراً بعد وہاں سے نکلے تھے جسے بعد میں اسرائیل نے نشانہ بنایا۔ علاقے میں ایرانی کمانڈروں کے خلاف گزشتہ چند برسوں میں متعدد مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی مارے گئے، جس میں ایرانی قیادت کے کئی سینئر ارکان ہلاک ہوئے۔ تاہم ان حملوں میں اسماعیل قاآنی کے مارے جانے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی، جس نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے والے حملے سے چند منٹ قبل قاآنی اس مقام سے نکل گئے تھے، جس کی وجہ سے بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کو خفیہ معلومات فراہم کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ ایک اور دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ موساد کے ایک مبینہ اندرونی ایجنٹ نے خامنہ ای کی لاش کی ویڈیو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھیجی۔ اسرائیل نے اس سے قبل ایرانی اور ایران سے وابستہ کئی شخصیات کی ایک فہرست جاری کی تھی جنہیں ہدف بنانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔
بعد میں اعلان کیا گیا کہ یہ فہرست مکمل ہو چکی ہے، مگر اس میں اسماعیل قاآنی کا نام شامل نہیں تھا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران بعض رپورٹس میں نام ظاہر نہ کرنے والے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ قاآنی کئی ایسی ملاقاتوں یا مقامات کے قریب موجود تھے جنہیں بعد میں مہلک حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران بھی کئی میڈیا اداروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا تھا، مگر جون 2025 میں وہ تہران میں ایک عوامی تقریب میں اچانک نظر آئے، جہاں وہ عام لباس میں موجود تھے۔ اسی طرح اکتوبر 2024 میں بھی ان کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں، بعد ازاں اطلاعات آئیں کہ انہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، مگر کچھ عرصے بعد وہ ایرانی ٹی وی پر دوبارہ دکھائی دیے۔ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کی قیادت میں مبینہ دراندازی کے بعد ایران نے اپنے سکیورٹی نظام میں ممکنہ خامیوں کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ بعض علاقائی میڈیا اداروں کے مطابق اسی سلسلے میں قاآنی اور ان کے قریبی ساتھیوں کو الگ تھلگ کر کے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ اب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں بالآخر پھانسی دے دی گئی، تاہم ایران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ یہ تمام قیاس آرائیاں ایسے وقت سامنے آ رہی ہیں جب ایران میں نئے سپریم لیڈر کے تقرر کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کے معاملے میں امریکہ کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے حوالے سے اس کے چار بنیادی مقاصد ہیں: ایران کے میزائل ہتھیاروں کو تباہ کرنا، اس کی بحری طاقت کو ختم کرنا، اسے مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں کو کمزور کرنا۔ تاہم اسماعیل قاآنی کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کی اب تک کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔


















































