بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے عیدالفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کیلئے ہدایات جاری کر دیں

datetime 6  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے طریقہ کار اور ہدایات جاری کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیٹ بینک ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان کے دوسرے ہفتے میں 8877 شارٹ کوڈ سروس فعال کرتا ہے۔ اس سہولت کے تحت شہری اپنے موبائل فون سے ایک ایس ایم ایس بھیج کر نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے صارفین کو پیغام میں اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کے بعد ایک اسپیس دے کر متعلقہ بینک برانچ کا کوڈ لکھنا ہوگا اور یہ پیغام 8877 پر بھیجنا ہوگا۔ درخواست بھیجنے کے بعد شہریوں کو جواب میں ایک منفرد ٹرانزیکشن کوڈ اور متعلقہ بینک برانچ کا پتہ موصول ہو جاتا ہے۔

ایس ایم ایس موصول ہونے کے بعد درخواست دہندہ کو اصل شناختی کارڈ اور اس کی کاپی کے ساتھ متعلقہ بینک برانچ جانا ہوگا۔ بینک عملہ ٹرانزیکشن کوڈ کی تصدیق کے بعد عموماً 10، 20 اور 50 روپے کے نئے نوٹوں کے پیکٹ فراہم کرتا ہے۔اگر کسی وجہ سے 8877 سروس دستیاب نہ ہو یا مصروف ہو تو شہری براہ راست اپنی بینک برانچ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ بیشتر کمرشل بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے محدود تعداد میں نئے نوٹ محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرتے ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں سٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر سے بھی نئے نوٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں، جہاں یہ سہولت پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ رمضان کے آخری عشرے میں بینک اے ٹی ایم مشینوں میں نسبتاً صاف ستھرے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ لوڈ کرتے ہیں تاکہ لوگ عید کے موقع پر عیدی دینے کے لیے انہیں استعمال کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…