اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنا بے فائدہ اور وقت کا ضیاع ہوگا۔
جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے ہی اپنی فوجی طاقت سے محروم ہو چکا ہے، اس لیے امریکا کے لیے وہاں فوج اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔این بی سی نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا غیر ضروری ہے کیونکہ ایران تقریباً سب کچھ کھو چکا ہے۔ ان کے بقول ایرانی بحریہ سمیت وہ تمام صلاحیتیں جن پر انہیں انحصار تھا، اب تباہ ہو چکی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کو بھی اہمیت نہیں دی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر غیر ملکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ اقدام حملہ آوروں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے اس موقع پر ایران میں قیادت کی تبدیلی کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو جلدی سے معاملات سنبھال سکے اور ملک کی بحالی کے لیے طویل عرصہ درکار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ نئی قیادت کے لیے ان کے ذہن میں چند نام موجود ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے وضاحت کی کہ موجودہ فوجی آپریشن کے منصوبے میں زمینی افواج کو شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق امریکا بتدریج ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب تک دو ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی میتوں کی واپسی کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کریں گے۔


















































