منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وہ وقت جب انضمام الحق اداکارہ سنگیتا بجلانی کیلئے لڑنے پہنچ گئے تھے

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر و کپتان انضمام الحق کا شمار عظیم بیٹسمینوں میں ہوتا ہے۔ اپنےکیریئر میں انہوں نے بطور بیٹسمین اور کپتان پاکستان کو کافی کامیابی دلائی۔ انضمام الحق ویسے تو میدان پر بہت زیادہ جارحانہ انداز نہیں دکھاتے، لیکن ایک میچ کے دوران وہ بلا لے کر مداح کو مارنے کے لئے اسٹینڈ جا پہنچے تھے۔ اسی میچ میں انہیں کئی بار شائقین نے آلو، آلو کہہ کر

چڑھایا تھا۔قومی اخبار جنگ کے مطابق اس معاملے پر انضمام الحق کے ساتھی کھلاڑی اور عظیم کرکٹر وقار یونس نے انکشاف کیا کہ انضمام الحق اصل میں اپنے لئے نہیں، بلکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کپتان محمد اظہر الدین کی اہلیہ سنگیتا بجلانی کے لئے لڑنے گئے تھے۔وقار یونس نے’دی گریٹسٹ رائیولری’ پاڈکاسٹ میں کہا کہ یہ سچ ہے کہ اس میچ میں کسی نے اسے آلو کہا، لیکن وہ اس پر غصہ نہیں ہوا تھا۔ دراصل بھیڑ میں کوئی محمد اظہرالدین کی بیوی سنگیتا بجلانی کے بارے میں غلط باتیں بول رہا تھا۔ انضمام تو انضمام ہیں، انہیں یہ پسند نہیں آیا۔ اس وقت کھلاڑیوں کے درمیان اچھی دوستی ہوا کرتی تھی، ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں’۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انضمام الحق عام طور پر سلپ پر فیلڈنگ کرتا تھا۔ اس دن کپتان سے پوچھ کر اس نے باؤنڈری پر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے فیصلہ کیا اور میرے خیال سے سلیم ملک کپتان تھے (میچ میں رمیز راجہ اصلی کپتان تھے)، تو انضمام الحق نے کپتان سے کہا کہ مجھے فائن لیگ یا تھرڈ مین پر بھیجو، تب وہ فیلڈنگ کرنے گیا۔ انضمام الحق نے 12ویں کھلاڑی کو بلا لانے کو کہا، اس نے بلا لاکر بھی دے دیا۔ وہ بلا لے کر اسٹینڈ میں گھس گئے اور مداح کو پکڑ کر اسٹینڈ سے نیچے اتار دیا’۔انضمام الحق کو ایسا کرنے کے لئے سزا بھگتنی پڑی۔ انہیں دو میچوں کے لئے معطل کردیا گیا تھا۔ انضمام الحق کو معافی مانگنی پڑی تھی اور ان کی مدد کے لئے اظہر تب آگے آئے۔ محمد اظہرالدین نے جاکر اس مداح سے بات چیت کی۔ ان کے سبب ہی معاملہ عدالت تک نہیں پہنچا اور اس سے عدالت کے باہر ہی نمٹا لیا گیا۔ حالانکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور مضبوط ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…